وفاق کے زیرانتظام ہسپتالوں کی صوبوں کو منتقلی سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (امجد بھٹی) سپریم کورٹ نے وفاق کے زیرانتظام ہسپتالوں کی صوبوں کو منتقلی سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ شیخ زید ہسپتال وفاقی حکومت کو تحفہ دیا گیا تھا۔ 34 ارب لگانے کے بعد وفاقی حکومت ہسپتال کیوں نہیں چلا سکتی۔

 

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہسپتالوں کے انتظام کی تحلیل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا وفاقی حکومت اتنی بے اختیار ہوتی ہے کہ صوبے میں ہسپتال نہیں بنا سکتی۔ اگر بنا سکتی ہے تو چلا نہیں سکتی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں وقتاً فوقتاً صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس رہا۔

 

شیخ زید ہسپتال کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ابو ظہبی کے حکمران نے ہسپتال تحفے میں دیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں متحدہ عرب امارات کے حکمران بھی ہیں۔ امارات حکومت بذریعہ وفاقی حکومت اس ہسپتال کو فنڈ کر رہی ہے۔ تو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کیسے یہ ادارہ صوبے کو منتقل ہو سکتا ہے۔

 

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ شیخ زید ہسپتال تو ہمیں منتقل ہو چکا ہے۔ رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ جناح ہسپتال اور این آئی سی وی ڈی کو ریسرچ ہسپتال کے زمرے میں ڈال کر وفاق کو نہیں دیا جا سکتا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر آئین کے خلاف منتقل ہوا ہے تو غیر آئینی ہے۔ اگر بنیاد غلط ہے تو اس پر ساری تعمیر بھی غلط ہے۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں