پرویزمشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی، غیرقانونی قرار

لاہور (پبلک نیوز) لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف پرویز مشرف کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنانے کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔

 

تفصیلات کے مطابق جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کی۔

 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے خصوصی عدالت کی تشکیل کی سمری اور ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی۔

 

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ضیاء الحق نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے؟ 12 صفحوں کی کتاب ہے، اس کتاب کو کسی بھی وقت پھاڑ کر پھینک دوں، یہ آئین توڑنا تھا۔ ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے۔ اگر ایسی صورتحال ہو جائے کہ حکومت ایمرجنسی لگا دے تو کیا اس حکومت کیخلاف بھی غداری کا مقدمہ چلے گا؟

 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا کہ آرٹیکل 6 میں آئین معطل رکھنے کا لفظ پارلیمنٹ نے شامل کیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ تو پھر آئین سے انحراف کیسے ہو گیا؟ آپ نے 3 لفظ شامل کر کے پورے آئین کی حیثیت بدل دی۔

 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے مذکورہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، نئی قانون سازی کے بعد جرم کی سزا ماضی سے نہیں دی جا سکتی۔

 

جسٹس مسعود جہانگیر نے کہا کہ پھر ہم سمجھیں کہ جو پرویز مشرف کا موقف ہے وہی آپ کا موقف ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سر میں تو ریکارڈ کے مطابق بتا رہا ہوں۔

 

لاہور ہائی کورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر پرویز مشرف کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا۔ کچھ دیر بعد عدالت نے فیصلہ سنایا جس میں پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی اور غیرقانونی قرار دے دی گئی،

 

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے وقت آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ آرٹیکل 6 میں ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا، خصوصی عدالت میں شکایت درج کرتے وقت قانون کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنانے کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔ کرمنل لاء اسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976 کی دفعہ 4 کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

احمد علی کیف  6 روز پہلے

متعلقہ خبریں