غیرقانونی بھرتیاں کا کیس، سابق وی سی پنجاب یونیورسٹی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 نومبر تک توسیع

لاہور (پبلک نیوز) غیرقانونی بھرتیوں کیس میں سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران سمیت 6 افراد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 نومبر تک توسیع کردی گئی

تفصیلات کے مطابق عدالت کے ایڈمن جج سید نجم الحسن نے سماعت کرتے ہوئے ڈاکٹر کامران مجاہد کے وکیل کی شکایت کے بدلے میں ریمارکس دیئے کہ نیب کے قوانین بدلنے کی ضرورت ہے جوکہ کئی عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔

مجاہد کامران کے وکیل کی جانب سے یہ بھی کہنا تھا کہ نیب تعصب کا استعمال کر رہی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے ملزمان کے خلاف موقف اختیار کیا کہ 4 سابق رجسٹرار اور ایک ایڈیشنل رجسٹرار وی سی مجاہد کامران کے غیر قانونی کاموں میں معاون تھے جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کی بنیاد مجاہد کامران نے بڑے پیمانے پر یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کیں۔ اس کے علاوہ مجاہد کامران نے اپنی اہلیہ شازیہ قریشی کو غیرقانونی طور پر یونیورسٹی لاء کالج کی پرنسپل تعینات کیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈاکٹر مجاہد کامران نے سکالر شپ من پسند طلباء کو دئیے جبکہ ڈاکٹر مجاہد کامران نے اپنے 9 سالہ دور میں لاتعداد سیاسی بھرتیاں کیں اور ڈاکٹر مجاہد کامران نے پپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند کنٹریکٹر کو ٹھیکے دیے لیکن آج ڈاکٹر مجاجد کامران سمیت دیگر ملزمان کو جیل سے جوڈیشل ریمانڈ کے بعد ہتھکڑیاں لگا کر پیش نہیں کیا گیا۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں