الاٹیز کے حقوق متاثر ہوئے تو ذمہ دار ملک ریاض ہونگے، سختی پر مجبور نہ کیا جائے: جسٹس عظمت سعید

اسلام آباد (پبلک نیوز) بحریہ ٹاؤ ن کراچی عملدرآمد کیس میں رپورٹ جمع کیوں نہیں کرائی۔ سپریم کورٹ نیب کے عدم تعاون  پر برہم، جسٹس شیخ عظمت سعید نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا تین ماہ کا وقت دیا تھا دھیلے کا کام نہیں کیا۔ کام نہیں ہوتا تو بتا دیں ہم ابھی حکم دے دیتے ہیں۔ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔

تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس میں عدم تعاون پر سپریم کورٹ نے نیب پر برہمی کا اظہار کر دیا۔ بنچ کے سربراہ جسٹس شیخ عظمت سعید اور نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر میں مکالمہ ہوا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاون سے متعلق رپورٹ جمع کیوں نہیں کرائی۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تین ماہ کا وقت دیا تھا دھیلے کا کام نہیں ہوا۔ کام نہیں ہوتا تو بتا دیں۔اسپیشل پراسیکیوٹر نیب بولے سر ایسی بات نہیں ہے۔ انھوں نے اظہاربرہمی کرتے ہوئے کہا آپ ریاست پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں مگر آپ نے ابھی تک کچھ نہیں کیانیب  کی جانب سے پیش رفت نہ ہونے پر ہمیں مایوسی ہوئی۔

دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے جعلی بینک اکاونٹس کی جے آئی ٹی کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ کراچی بحریہ ٹاؤن کا ایک اور جگہ حوالہ دیا گیا۔ دوسری عدالت میں رپورٹ پیش کر دی گئی یہاں کیوں نہیں کی جا رہی۔ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کریں۔

جسٹس عظمت سعید نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ دیں عمل نہیں ہو سکتا تو ہم ابھی حکم دے دیتے ہیں۔ نیب اپنے ایکشن سے پیش رفت بتائے۔

جسٹس عظمت سعید  نے وکیل صفائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہبحریہ اپنا کیس ہار چکا نظر ثانی اپیل بھی خارج ہوئی موکل کو سمجھائیں عدالت سے تعاون کریں۔ الاٹیز کے حقوق متاثر ہوئے تو ذمہ دار ملک ریاض ہوں گے۔ ہمارا صبر ختم ہو رہا ہے۔ سختی کے لیے مجبور نہ کریں ۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب اور ڈائریکٹر جنرل سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی۔ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کیس میں تخت پڑی سے متعلق سروے جنرل کو ایک دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ بعد  ازاں سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی ۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں