کراچی حملے میں بھارتی ہاتھ، گرہیں کھلنے لگیں

 

کراچی (پبلک نیوز) چینی سفارتخانے پر حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کی گھناؤنی سازش تھی۔ جسے پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کے مطابق بھارتی نواز بلوچ لبریشن نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چینی قونصل خانے پر حملے کا مقدمہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی حمایت یافتہ تنظیم کے خلاف ایس ایچ او بوٹ بیسن کی مدعیت میں  درج کرلیا گیا۔ مقدمے میں قتل اور اقدام قتل، دہشت گردی، دھماکہ خیز مواد رکھنے کی دفعات شامل کی گئیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے گیٹ کو توڑنے کے لیے آئی ای ڈی ڈیوائس کا استعمال کیا۔ دہشت گردوں کی جانب سے ریسیپشن پر لگائی گئی آئی ای ڈی کو بم ڈسپوزل یونٹ نے ناکارہ بنایا۔ حملے میں قونصلیٹ کے باہر کھڑی 9 گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ ریسیپشن پر ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے بیگ سے شناختی کارڈ اور سرکاری سروس کارڈ برآمد ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: قونصلیٹ حملہ کے 2 مبینہ سہولت کار گرفتار

انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی تعداد چار نہیں تین تھی۔ تحقیقات کی ہیں کوئی دہشت گرد گرفتار نہیں ہوا۔ حملے کی تحقیقات میں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

چینی سفارت خانے پر حملے کے بعد سیکیورٹی سخت کردی گئی۔ ساوتھ زون کی جانب سے فلیگ مارچ بھی کیا گیا معظم جاہ انصاری کمانڈنٹ ایف سی سکیورٹی نے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ادارے ایسے ہی مل کر کام کرتے رہے تو دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چینی سفیر مسٹر یاؤ جنگ سے ملاقات میں چائنیز  قونصلیٹ کو بہترین سیکیورٹی دینے کی یقین دہانی کرادی۔ وزیراعلیٰ سندھ  سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ  سے بات کی ہے ہم مل کر سندھ، بلوچستان بارڈر پرسکیورٹی مزید سخت کرنے  جارہے ہیں۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں