خواتین کو 'گڈ مارننگ' کا میسج بھیجنا بھی ہراساں کرنا ہے: کشمالہ طارق

راولپنڈی (ویب ڈیسک) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ خواتین کو گڈ مارننگ کا میسج بھیجنا بھی ہراساںی کے زمرے میں آتا ہے۔ ہراسمنٹ جنسی ہی نہیں بلکہ کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے۔

خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف شروع ہونے والی بین الاقوامی مہم 'می ٹو' دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔ جو اب پاکستان میں پہنچ چکی ہے۔ جس کا سب سے بڑا واقعہ گلوگار و اداکار علی ظفر پر میشا شفیع کے الزامات کے سامنے آیا۔

انسداد ہراسانی کی وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں 'یوم خواتین' کے  حوالے سے منعقدہ تقریب میں ہراسانی کی تعریف بیان کی۔ 

 

کشمالہ طارق نے کہا کہ ایسی شکایات بھی موجود ہیں جہاں دفاتر کے نائب قاصد بھی خواتین کو ہراساں کر رہے ہوتے ہیں۔ ہراسمنٹ جنسی ہی نہیں بلکہ کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے۔ اگر آپ کو کوئی بار بار چائے پر جانے کا بھی کہے تو وہ بھی ہراسمنٹ میں آتا ہے۔

 

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں