سیمنٹ فیکٹریوں کی پانی چوری، سپریم کورٹ نے معائنہ ٹیم بنادی

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے سیمنٹ فیکٹریوں کی پانی چوری جاننے کے لیے معائنہ ٹیم بنادی۔ ڈی جی ایچ آر رپورٹ دیں گے۔ چیف جسٹس نے رکاوٹ ڈالنے والوں پر پرچہ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ نامکمل رپورٹ پیش کرنے پر ڈی سی چکوال کی سرزنش کی۔

سپریم کورٹ میں کٹاس راج مندر تالاب خشک ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سول سوسائٹی کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ 10 سے 15 کیوسک فٹ پانی سے سیمنٹ فیکٹری چلنا ممکن نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ اپنا ذاتی عناد چھوڑ کر اصل مسئلے کی طرف آئیں۔ اب فیکٹریاں اپنے استعمال کے لیے پانی کا خود بندوبست کریں۔ اگر کوئی فیکٹری خلاف ورزی کرے گی تو گارنٹی کیش کرا لیں گے۔

عدالت نے بغیر تیاری آنے پر ڈی سی چکوال کی سرزنش بھی کی۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کو معلوم ہی نہیں کہ رپورٹ میں کیا لکھا ہے۔ کم از کم اپنی رپورٹ تو پڑھ کر آتے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زیر زمین جو تالاب بھرے گئے وہ کہاں سے آیا؟ سیمنٹ فیکٹری کے وکیل نے کہا کہ ٹیوب ویل بند تھے وہاں سے کوئی پانی نہیں نکالا گیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو سختی پر مجبور نہ کریں۔ زیر زمین تالاب بارش سے نہیں ٹیوب ویل سے بھرے گئے۔

سپریم کورٹ نے سیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے زیر زمین پانی کی چوری کے معائنے کے لیے ٹیم تشکیل دے دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیمنٹ فیکٹریوں کے تالاب کے پانی کا نمونہ لیب میں بھیجا جائے اور بتایا جائے کہ یہ زیر زمین پانی ہے یا بارش کا پانی؟

ٹیم کا سربراہ سپریم کورٹ کا نمائندہ ہو گا۔ متعلقہ ڈی سی کو ٹیم کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا جو بھی رکاوٹ ڈالے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ ٹیم معائنہ مکمل کر کے اور پانی کا تجزیہ کر کے سپریم کورٹ میں رپورٹ دے جبکہ آئندہ سماعت جمعہ کو لاہور میں ہو گی۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں