اگر ہم کرپٹ اور ناکام تھے تو ہمارا وزیر خزانہ کیوں رکھا: خورشید شاہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) قومی اسمبلی میں مسلسل تیسرے روز گرما گرمی۔ اسدعمر نے زرداری دور کو ناکام ترین قرار دیتے ہوئے بلاول بھٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا تو جواب میں خورشید شاہ نے حساب برابر کردیا۔ خورشیدشاہ نے کہاپی ٹی آئی 8ماہ میں کوئی ایک کام بتائے جو اچھا کیا ہو۔ مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں اور یہ بیان بازی کرتے ہیں۔

وزارت سے چھٹی کے بعد اسد عمر پہلی بار اسمبلی آئے تو بلاول بھٹو کو نشانے پر لے لیا۔ کہا مجھے تبدیل کرنے پرکہا گیا حکومت ناکام ہوگئی۔ پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں 4وزیرخزانہ بدلے گئے تو کیا آپ نااہل ترین تھے؟زرداری دور میں افراط زر کی شرح 12.3فیصدتھی، قرضوں میں 135فیصد اضافہ ہوا۔

خورشیدشاہ نے جواب دیااسدعمرآئے، جھوٹ بولا اور بھاگ گئے۔ وزیراعظم نے اسدعمر کو ناکام اور نااہل وزیرخزانہ سمجھ کرنکالا۔ اگرہم کرپٹ اورناکام تھے تو ہمارا وزیرخزانہ کیوں رکھا؟، حفیظ شیخ سے اب پوچھیں خزانے کو کتنا لوٹا؟ یہ ہمارا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا ہم نے نوکریاں دیں، آپ لوگوں کو بے روزگار کررہے ہیں۔ بجلی، گیس، ادویات سب کچھ مہنگا ہوگیا، عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ پی ٹی آئی بتائے ابھی تک کون سا اچھا کام کیا؟

خورشید شاہ کے جواب میں وفاقی وزیرعلی زیدی نے جارحانہ انداز اپنایا تو اپوزیشن واک آؤٹ کرگئی۔ پارلیمنٹ کے باہرمیڈیا ٹاک کرتے ہوئے علی زیدی نے الزام لگایا کہ ماضی میں قرض کا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہربھیجا گیا۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں