خورشید شاہ 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

 

سکھر (پبلک نیوز) سکھر کی احتساب عدالت نے خورشید شاہ کو 9 دن کے ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔ اہل خانہ سے ملاقات اور گھر کا کھانا منگوانے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ نیب سکھر آفس میں خورشید شاہ کے لیے علیحدہ سیل، اٹیچ باتھ، ایئر کنڈیشنر کی سہولت اور طبی سہولت کے لیے 24 گھنٹے ڈاکٹر بھی موجود ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں نیب کی زیر حراست پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کو سکھر کی احتساب عدالت پیش کیا گیا۔ جج نے خورشید شاہ سے استفسار کیا کہ آپ کو نیب سیل میں صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ تو نہیں؟ خورشید شاہ کا جواب میں کہنا تھا کہ صحت کا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے اہل خانہ سے ملاقات اور گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت دے دی۔

 

خورشید شاہ کے وکیل کا دلائل میں کہنا تھا کہ خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گرفتاری مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کی گئی۔ 2014 میں بھی نیب نے کیس بنایا جو سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر ختم کیا گیا۔ خورشید شاہ پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں انکوائری شروع کی گئی۔ خورشید شاہ نیب سے تعاون نہیں کر رہے تھے اس لیے گرفتار کیا گیا۔

 

نیب کی جانب سے خورشید شاہ کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے الزامات کے شواہد لانے کے لیے آدھے گھنٹے کا وقت دیا۔ شواہد پیش کرنے پر خورشید شاہ کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔

 

دوسری جانب نیب ذرائع کے مطابق نیب سکھر آفس میں خورشید شاہ کے لیے علیحدہ سیل تیار کیا گیا۔ اٹیچ باتھ اور ایئر کنڈیشن کی سہولت دی گئی ہے۔ خورشید شاہ کو طبی سہولت کے لیے ڈاکٹر کو 24 گھنٹے الرٹ رکھا جائے گا۔ خورشید شاہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم کو آن کال بھی رکھا گیا ہے۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں