ملک میں خانہ جنگی کا ماحول ہے، قبائلی علاقے 4 دہائیوں سے بدامنی کا شکار ہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد ذاتی خواہش کے لیے دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا گیا۔ اس خطے میں رہنے والوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ہماری سویت یونین کے ساتھ کوئی جنگ نہیں تھی۔ صرف اقتدار کو طول دینے کا شوق تھا ملک پر توجہ نہیں دی گئی۔

 

قومی اسمبلی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رہنماء مسلم لیگ (ن) خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 80 کی دہائی میں فیصلہ کیا سپر پاور کی پراکسی بننا ہے۔ جنگ سرحد کے پار لڑی جا رہی ہے اثرات ہمارے علاقوں پر پڑ ے۔ 80 کی دہائی اور نائن الیون نے پاکستان کو دہشت گردی۔ سارا پاکستان اس جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ 4 دہائیوں سے بدامنی کا شکار رہا۔ امریکا شکست کھا چکا، واپسی کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ ہم پراکسی وار کا حصہ نہیں۔ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ نائن الیون کے بعد ذاتی خواہش کے لیے دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا گیا۔ اس خطے میں رہنے والوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ہماری سویت یونین کے ساتھ کوئی جنگ نہیں تھی۔ صرف اقتدار کو طول دینے کا شوق تھا ملک پر توجہ نہیں دی گئی۔ پاکستان نائن الیون کے بعد جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔ سپرپاور کی غلامی ہماری تاریخ کا دکھ بھرا باب ہے۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں