قتیل شفائی کی آج 17ویں برسی منائی جا رہی ہے

لاہور (پبلک نیوز) پاکستانی فلمی صنعت کے عہد ساز نغمہ نگار اور بے مثال شاعر قتیل شفائی کو دنیا سے رخصت ہوئے 17 برس بیت گئے مگر ان کی سدا بہار شاعری آج بھی دلوں کے ساز چھیڑدیتی ہے۔

ہری پور ہزارہ کے بے مثل نغمہ نگار اور اردو کے معروف شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا۔ منفرد خیالات کو سادہ اسلوب میں ڈھال کر شعر کہنے کے فن میں مہارت رکھنے والے عہد ساز نغمہ نگار اور عظیم شاعر نے قتیل شفائی کے نام سے شہرت پائی۔

"جب بھی آتا ہے میرا نام تیرے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ میرے نام سے جل جاتے ہیں"

قتیل شفائی نے شاعری کی ہر صنف میں ہی سخن آرائی کی لیکن ان کے لکھے بے شمار فلمی گیتوں کو سرحد کے دونوں اطراف بے پناہ شہرت میسر آئی۔ انہوں نے برصغير پاک و ہند کی فلموں کے لیے ڈھائی ہزار سے زائد گيت بھی لکھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

علاوہ ازیں قتیل شفائی نے آدم جی ایورڈ، نقوش ایوارڈ، اباسین آرٹ کونسل ایوارڈ اور امیر خسرو ایوارڈ سمیت 20 ایوارڈز اپنے نام کیے۔ جولائی کا مہینہ پاکستانی فلموں کے لیے لازوال گیت تخلیق کرنے والے نامور شاعر قتیل شفائی کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کی تکلیف دہ یادیں لے کر آتا ہے۔ ان کا انتقال گیارہ جولائی 2001ء کو 82 برس کی عمر میں ہوا تھا۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں