"یوم مزدور ہے، چھٹی ہے، مرا فاقہ ہے"

سدرہ غیاث

عالمی دن بیشترحضرات جہاں فیملی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ وہیں آج یوم مزدور کے موقع پر بھی مزدور طبقہ روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلے ہیں۔ مگر بہت سے مزدور رات کو خالی ہاتھ ہی گھر لوٹ جاتے ہیں۔ جو بے روزگاری اور نہ امیدی کا مؤجب بن رہا ہے۔

جو موت سے نہ ڈرتا تھا بچوں سے ڈر گیا

اک رات خالی ہاتھ جو مزدور گھر گیا

مزدور معیشت کی ریڑ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے مگر آج عالمی مزدور دن کے موقع پر چھٹی کے روز بھی محنت کش روزگار کی غرض سے اور دو وقت کے کھانے کے لیے شہر بھر میں گھوم رہے ہیں۔

یوم مزدور پر بھی اپنے حقوق سے نا آشنا یہ محنت کش زندگی کے آخری حصے میں آرام کی بجائے دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے صبح سے شام تک مزدور روز گار کی تلاش میں بھٹکنے کے بعد خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتے ہیں۔

مہنگائی کے بوج تلے دبے، بے روزگاری کے ستائے یہ مزدور اب بھی حکومت سے اچھے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ہمارے حال پر رحم کرے اور بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں