شہر اقتدار کے سیکڑوں دیہات، کچی آبادیاں، سوسائٹیز صحت کی سہولیات سے محروم

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی دارلحکومت میں پرائمری ہیلتھ سسٹم غیر فعال، شہر اقتدار کے سیکڑوں دیہات، کچی آبادیاں اور سوسائٹیز صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ مردم شماری میں اسلام آباد کی آبادی 20لاکھ لیکن اصل میں کہیں زیادہ ہے۔

وفاقی دارالحکومت کی آبادی میں ہوشربا اضافہ ہوگیا، 9بڑے سیکٹرز، 20کچی آبادیوں، سینکڑوں دیہات اور درجنوں رہائشی سوسائیٹز والے شہرمیں صحت کی سہولتیں کم پڑ گئیں، میلوں دور پھیلے شہر اقتدارکی 50یونین کونسلز میں سے 30دیہی علاقے پر متشمل ہیں، جہاں اسپتال بنے نہ تشخیصی مراکز قائم ہوسکے۔ بڑے اسپتال بھی شہرکے عین بیچ بنائے گئے لیکن دیہی علاقوں کے عوام کو صحت کے حوالے سے لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ 

مردم شماری میں تو اسلام آباد کی آبادی 22لاکھ بتائی جاتی ہے تاہم اصل آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ شہر اقتدار میں نجی ہاوسنگ سوسائیٹز کی تعداد 100کے قریب پہنچ گئی جن میں سے 30رجسٹرڈ ہیں، لیکن ان سوسائیٹز میں اسپتال تو دور کی بات ڈسپنسریاں تک موجود نہیں۔

آبادی میں اضافے کے باعث وفاقی اسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کا فقدان پیدا ہوچکا ہے، اسی لیے تو ہر اسپتال میں مریضوں کی لمبی لائینیں معمول بنا گیا ہے ہر جگہ مریض ڈاکٹرز نہ ملنے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ 

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور اپر پنجاب کے پیچیدہ مریضوں کو بھی اسلام آباد کے اپستالوں میں ریفر کیا جاتا ہے، جس سے مزید بوجھ بڑھ گیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث اسلام آباد میں طبی سہولتیں اور آبادی کے تناسب میں توازن نہیں رہا، جس کی بڑی وجہ وفاقی دارالحکومت میں پرائمری ہیلتھ سسٹم کا غیر فعال ہونا ہے۔

حارث افضل  11 ماه پہلے

متعلقہ خبریں