لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ برادران کی ضمانت کیلئے درخواستیں مسترد کر دیں

لاہور(ادریس شیخ) لاہور ہائیکورٹ نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں گرفتار خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں، 11 دسمبر 2018 کو خواجہ برادران کو لاہور ہائیکورٹ سے ہی ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

 

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بنچ نے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سابق صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا، عدالت نے خواجہ سعد اور خواجہ سلمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب چوہدری خلیق الزمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ برادران نے 1997 میں ایک پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی ڈیبونیئر بنائی اور کروڑوں روپے وصول کیے۔

 

ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ فیملی نیب کی وجہ سے محتاط ہو گئے، پھر خواجہ سعد کے کروڑوں روپے کے پرائز بانڈ نکل آئے، خواجہ سعد نے اپنی غیر قانونی آمدن پرائز بانڈ کی آمدن سے جائز بنا لی، چوہدری خلیق الزمان نے عدالت سے استدعا کی کہ خواجہ برادران کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جائیں۔

 

خواجہ برادران کے وکیل اشتر اوصاف ایڈووکیٹ کی جانب سے دلائل دیئے گئے کہ نیب کے کرپشن کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، نیب تفتیش میں مکمل طور پر تعاون کیا، نیب تفتیش کے دوران کرپشن ثابت کرنے میں ناکام رہا، ضمانت کی درخواستیں منظور کی جائیں۔ جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر خواجہ سعد اور خواجہ سلمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں