چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی پیشکش

لاہور (ادریس شیخ) لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کی بجائے جوڈیشل انکوائری کی پیشکش کردی۔

 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد شمیم خان کی سربراہی میں جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے  سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ جسٹس صداقت علی خان نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ وقوعہ کی تاریخ بتائیں، یہ پولیس والے ہوا میں لکھتے ہیں سب کچھ ہو رہا ہے لیکن کاغذ میں کچھ نہیں ہوتا۔

 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے خلیل کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا کوئی موقع کا گواہ موجود ہے؟ خلیل کے وکیل نے کہا کہ مقتول خلیل کا بیٹا عمیر خلیل ہمارا اہم گواہ ہے، ابھی اس کا بیان جمع کروا رہے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے بتایا کہ وزیراعظم نے پنجاب حکومت سے 48 گھنٹوں میں سانحہ پر رپورٹ مانگ لی ہے، اگر وزیراعظم رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن بنانے پر غور کیا جائے گا۔

 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ متاثرہ فریقین نے وزیراعظم سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے استدعا نہیں کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں ضروری ہے کہ کوئی متاثرہ فریق ہی درخواست دے؟

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور اہلکاروں کو فرانزک لیب  بھجوا دیا ہے۔ چیف جسٹس نے سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو جوڈیشل کمیشن کی بجائے جوڈیشل انکوائری کروانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کہیں تو جوڈیشل انکوائری کا حکم دے سکتے ہیں، خلیل کے وکیل نے جوڈیشل انکوائری پر عدالت سے مہلت مانگ لی۔ کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں