لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا

لاہور(پبلک نیوز)نیب لاہور کی ٹیم کا شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے ان کی رہائشگاہ 96 ایچ پر چھاپہ، لاہور ہائیکورٹ نے نیب لاہور کو اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتاری کرنے سے روک دیا، نیب ٹیم واپس روانہ ہو گئی۔

 

قومی احتساب بیورو (نیب لاہور) کی ٹیم اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے رہنماء حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے 96 ایچ ماڈل ٹاﺅن پہنچ گئی، جس پر حمزہ شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں ناصرف نیب کے وارنٹ گرفتاری چیلنج کر دیئے اور ساتھ ہی عبوری ضمانت کی درخواست بھی دائر کی، جس کو پیر کے روز سماعت کیلئے مقرر کیا گیا۔ حمزہ شہباز شریف کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کر کے درخواست پر آج ہی سماعت کرنے کی استدعا کی۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم خان نے حمزہ شہباز شریف کے وکیل کی متفرق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب کو حمزہ شہباز شریف کو 8 اپریل بروز پیر تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست کی سماعت کیلئے 2 رکنی بینچ بھی تشکیل دے دیا ہے، جو پیر کے روز سماعت کرے گا۔ حمزہ شہباز شریف کو بینچ کے روبرو پیش ہونے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔ عدالتی احکامات ملنے پر نیب ٹیم واپس روانہ ہو گئی

 

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب لاہور) کی ٹیم اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے رہنماء حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے 96 ایچ ماڈل ٹاﺅن پہنچ گئی، نیب کی ٹیم 12 اہلکاروں کے ساتھ حمزہ شہباز کی رہائشگاہ پر پہنچی، پولیس کی بھاری نفری بھی س موقع پر موجود تھی۔ نیب کی ٹیم نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کیلئے پیغام بھی پہنچا دیا۔ نیب کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے پاس حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں، اور ان کو گرفتار کئے بغیر نہیں جائیں گے۔

 

شریف فیملی کے گرفتار سہولت کاروں سے کی جانے والی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف اور حمزہ اور سلمان شہباز نے کیسے اپنا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا ملازمین نے منہ کھول دیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق شریف فیملی کا پیسہ غیرقانونی طور پر منی ایکسچینج کے ذریعے منتقل ہوا، جس کا مالک قاسم قیوم تھا۔ قاسم قیوم نے اپنے ملازمین کے اکاؤنٹس اور شناختی کارڈز کا استعمال کیا۔ ملزمان نے بیرون ملک بھاری رقم منتقل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

نیب کے ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث حمزہ اور سلمان شہباز کے دو ملازمین گرفتار کر لئے گئے اور باقی ملازمین کی فہرست تیار کر لی گئی ہے، ملازمین اپنے ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ میں سہولت کار بنے رہے، جن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ نیب لاہور کی ٹیم نے کہا کہ حمزہ شہباز کو بغیر گرفتار کیے نہیں جائے گے۔ سارا دن اور ساری رات یہاں پر موجود رہیں گے۔ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے آنے والے نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری اصغر اور مسلم لیگ (ن) کے وکیل عطا تارڑ کے درمیان تکرار بھی ہوئی۔ نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے وارنٹ دکھایا اور اندر جانے کی درخواست کی۔


نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اب گرفتار ی کے بغیر واپس نہیں جائیں گے، کیونکہ سپریم کورٹ نے نیب قانون کی تشریح میں کہا ہے کہ ٹھوس شواہد کی موجودگی میں گرفتاری کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا کہ اپوزیشن لیڈر گھر میں چھپے ہیں بلکہ گھر کی بیسمنٹ میں چھپے ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ حمزہ شہباز پر الزامات کی طویل فہرست ہے، انہوں نے منی لانڈرنگ کی ہے، پاکستان کا پیسہ باہر گیا ہے، پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا، کون آگے بڑھ رہا ہے سب دیکھ رہے ہیں۔

 

حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے نیب نے رینجرز کو طلب کر لیا۔ پولیس اور اینٹی رائٹس فورس کی نفری، جبکہ رینجرز کے دستے اور خوتین اہلکاروں کی بڑی تعداد نیب ٹیم لاہور کے ہمراہ شہباز شریف کی رہائش گاہ پر موجود تھی۔ نیب ٹیم کی جانب سے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے سیڑھی بھی منگوائی گئی۔ شہباز شریف کی رہائش گاہ کی طرف آنے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر پولیس نے بند کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان بھی اپنے رہنماء کی حمایت کیلئے وہاں پر موجود تھے۔

 

لیگی کارکنوں نے رہائش گاہ کے سامنے دھرنا دے دیا اور نیب کے خلاف نعرے بازی کی۔ رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش پر پولیس اور لیگی کارکنان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور پولیس نے کارکنان کو پیچھے دھکیل دیا۔ نیب نے حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے شہباز شریف کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر رکھا تھا، ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز کا گھر کے اندر سے نیب ٹیم کی کارروائی پر رردعمل سامنے آگیا۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت سے ریلیف ملا ہوا ہے گرفتاری نہیں دوں گا۔

 

احتساب عدالت کی جانب سے نیب ٹیم کو حمزہ کے وارنٹ گرفتاری پرعمل درآمد کا اختیار دے دیا گیا۔ احتساب عدالت نے کہا کہ نیب وارنٹ پر عمل درآمد کرے، درخواست کی ضرورت نہیں ہے۔ ملزم کو گرفتار کرنے کا طریقہ کار ضابطہ فوجداری میں موجود ہے۔ نیب ملزم کی گرفتاری کے لئے ضابطہ فوجداری پر ہی عمل درآمد کرے۔

 

واضع رہے نیب کی ٹیم نے کل بھی 96ایچ پر چھاپہ مارا تھا، لیکن حمزہ شہباز کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز نیب کی ٹیم نے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں حمزہ شہبازکو طلب کیا تھا لیکن وہ نیب آفس میں پیش نہیں ہوئے جس پر نیب نے گرفتاری کیلئے ان کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا، اس دوران حمزہ شہباز کے گارڈز نے نیب اہلکاروں پر تشدد کیا اور ان کے کپڑے پھاڑ دیئے، لاہور نیب کے ڈرائیور ممتاز حسین کی مدعیت میں حمزہ شہباز کے ذاتی گارڈ کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، مقدمہ میں آتشی اسلحہ سے زدو کوب، کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں