سانحہ ساہیوال:لاہورہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب پولیس سے ریکارڈ طلب کر لیا

لاہور(ادریس شیخ) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ساہیوال سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی درخواستوں پر آئی جی پنجاب پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24جنوری کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔

 

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار شمیم نے درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے انکوائریز اینڈ ٹربیونل ایکٹ کے سیکشن تین کے حوالے سے عدالتی معاونت کے لئے سرکاری وکیل کو بھی طلب کر لیا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ جوڈیشل کمیشن اکیلا چیف جسٹس کیسے قائم کر سکتا ہے، صوبائی حکومت چیف جسٹس کی مشاورت سے ہی جوڈیشل کمیشن بنا سکتی ہے، اور اس سلسلے میں انکوائریز اینڈ ٹربیونل ایکٹ کاسیکشن تین واضح ہے۔

 

درخواستوں میں پنجاب حکومت، سی ٹی ڈی اور آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے، عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا گیا کہ سانحہ ساہیوال میں بچوں کے سامنے نہتے والدین کو قتل کر دیا گیا، حکومت کو سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کے لیے کمیشن تشکیل دینا چاہیے تھا، حکومت جے آئی ٹی بنا کر بری الذمہ ہو گئی ہے۔

 

عدالت سے استدعا کی گئی کہ حاضر سروس جج کی سربراہی میں سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار شمیم نے آئی جی پنجاب کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

عطاء سبحانی  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں