جج ارشد ملک کے بیان سے واضح ہے سارا مافیا کا کھیل ہے: معاون خصوصی شہزاد اکبر

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ایفی ڈیوٹ کے مطابق جج ارشد ملک کی میٹنگ فکس کرائی گئی، میٹنگ میں جج ارشد ملک کو 10 کروڑ کی آفر کی گئی، ایفی ڈیوٹ کے مطابق جج ارشد ملک کو  ناصر بٹ نے بلیک میل کیا، جج ارشد ملک کے بیان سے واضح  ہے سارا مافیا کا کھیل ہے۔

 

وفاقی دارلحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جو مراسلہ موصول ہوا اس کے بعد تمام چیزیں عوام کو بتانا ضروری تھا۔ ایفی ڈیوٹ کے مطابق جج ارشد ملک کی میٹنگ فکس کرائی گئی۔ دیکھنا ضروری ہے میٹنگ کس نے فکس کرائی۔ میٹنگ میں جج ارشد ملک کو 10 کروڑ کی آفر کی گئی۔

 

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کیس کے نکات اکٹھے کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ فیصلہ حق میں  نہ آنے کی وجہ سے دوبارہ جج سے رابطہ بحال کیا گیا۔ دوبارہ رابطہ بحال کرنے میں ایک اور نیا کردار خرم یوسف شامل ہو گیا۔ ایفی ڈیوٹ کے مطابق جج ارشد ملک کو  ناصر بٹ نے بلیک میل کیا۔ جج ارشد ملک کو بلیک میل کرکے بیان دینے کے لیے کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 28 مئی 2019 کو عمرہ کے وقت ناصر بٹ نے حسین نواز سے ملاقات کرائی۔ پوری داستان لالچ سے شروع ہوکر دھمکیوں  اور بلیک میلنگ تک جاتی ہے۔ دیکھنا ہوگا جج ارشد ملک کا کیس  کیسے آیا؟ ان کی ساری سیاست تنگ گلی میں جاچکی۔ جب تک منی ٹریل نہیں دیں  گے بخشش نہیں ہوگی۔ کیس کو سیاست سے ڈیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جج ارشد ملک کے بیان سے واضح  ہے سارا مافیا کا کھیل ہے۔ مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے کیسز جج ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کرائے گئے۔ دیکھنا ہوگا جج ارشد ملک کی تعیناتی کیسے کرائی گئی؟

 

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ 11 جولائی 2019 ایفی ڈیوٹ کی تاریخ  ہے۔ جج ارشد ملک کی پریس ریلیز 7 جولائی کی ہے۔ پریس ریلیز اور ایفی ڈیوٹ کی وجہ سے جج ارشد ملک کو ہٹایا جا رہا ہے۔ جج ارشد ملک نے کہا کسی قسم کے دباؤ کے بغیر فیصلہ کیا ہے۔ جج ارشد ملک نے کہا انہیں دھمکایا گیا اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ جج ارشد ملک کو وزارت قانون کو ہدایت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جج کی بات مانی جائے تو کوئی دباؤ نہیں ہے۔ باقی تمام چیزوں کی طرف نظر ڈالیں تو وہ اور معاملات ہیں۔ سماعت کے دوران جج پر دباؤ ڈالنے سے متعلق 10 سال سزا ہوسکتی ہے۔ اس کیس کو کس طرح چلانا ہے نیب بہتر جانتا ہے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں