لیجنڈ اداکار ڈاکٹر انور سجاد حالات کی ستم ظریفی کا شکار

حسنین چودھری

65میں پاکستان ٹیلی ویژن سے کیریئر کا آغاز کرنے والے لیونگ لیجنڈ ڈاکٹر انور سجاد حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوگئے۔ معروف ادیب اور سینئر اداکار نےحکومت سے فنکاروں کی دیکھ بھال کی اپیل کر دی۔

تفصیلات کے مطابق معروف افسانہ نگار، ناول نویس، مصور، اداکار اور ڈرامہ نگار انور سجاد 27 مئی 1935 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انور سجاد نے کنگ ایڈورڈ کالج لاہور سے ایم بی بی ایس اور پول یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وطن عزیز میں میڈیکل کے پیشے سے منسلک ہوئے، انور سجاد نے 1965 میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور اداکار اور لکھاری کیا۔

ڈرامے اور موسیقی کے حوالے سے 1973 میں منعقد ہونے والے برلن میلے میں پاکستانی وفدکے ممبر کی حیثیت سے شریک ہوئے، ان کے شائع ہونے والے افسانوں میں چوراہا، استعارے، آج اور پہلی کہانیاں جبکہ ناول زگ، سنگ، جنم روپ اور خوشیون کا باغ خاصے مقبول ہوئے۔

سینئیر اداکار اور لکھاری انور سجاد مطالبہ کرتے ہیں کہ ملکی فنکاروں کی دیکھ بھال اور عزت نفس قائم کی جائے تاکہ فنکار صحیح معنوں میں پوری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرسکیں۔ بیگم انور سجاد اپنے شوہر کےساتھ گزری زندگی کو اپنا قیمتی اثاثہ سمجھتی ہیں۔

زندگی کی آٹھ دہائیاں گزارنے کے بعد ڈاکٹر انور سجاد بستر علالت پر حکومتی توجہ کے طلبگار اور حق دار نظر آتے ہیں۔

احمد علی کیف  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں