قباٸلی علاقوں میں سینڈ فلائی کے کاٹنے سے لشمانیا وائرس کی وبا پھیلنے لگی

پشاور(پبلک نیوز) قبائلی علاقوں میں سینڈ فلائی وبال جان بن گئی، سینڈ فلائی کے کانٹے سے انسانی جسم میں لشمانیا وائرس کی منتقلی۔ لشمانیا وائرس کے خاتمے کیلئے استعمال ہونے والے انجکشن کی بھی قبائلی علاقہ جات میں شدید قلت کا سامنا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق سابقہ فاٹا کے کئی قبائلی علاقوں میں سینڈفلائی کے کاٹنے سے لشمانیا وائرس کی وبا پھیلنے لگی۔ ضروری ویکسین نہ ملنے کے باعث بیماری دیگر اضلاع تک پھیلنے کا خدشہ، باجوڑ، ٹانک، بنوں، خیبر ایجنسی، اورکزئی، اور دیگر قبائلی علاقوں میں مریضوں کی تعداد ہزرواں تک پہنچ گئی۔ سینڈ فلائی کے کاٹنے سے متاثر شخص کے جسم پر بدنما داغ بننے لگے۔ سینڈ فلائی کے کاٹنے سے انسانی جسم کے بیرونی اور اندرونی اعضاء متاثر ہوتے ہیں۔


ذرائع کے مطابق لشمانیا وائرس کے خاتمے کیلئے استعمال ہونے والے انجکشن کی بھی قبائلی علاقہ جات میں شدید قلت ہے۔ ضلع خبیرانتظامیہ نے وفاقی حکومت سے مدد مانگ لی۔ وفاقی حکومت کو خط ارسال کر دیا گیا۔ دستاویز کے مطابق20 ہزار سے زائد بچے، جوان اور بزرگ لشمانیا کا شکار ہوئے۔ ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں 12ہزار سے زائد لوگ لشمانیا کا شکار ہوئے۔ ضلعی ہسپتالوں میں ویکسین کی کمی، 10ہزار ویکسین فلفور مہیا کی جائیں۔ ڈینگی نمٹنے کے لیے بھی ضروری سامان اور بجٹ کی درخواست بھی کی گئی۔ صفائی کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث اور بلدیہ عملے کی غیر حاضری کے باعث وبا کی شدت میں اضافہ۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں