نوازشریف کی ضمانت منظور

لاہور (پبلک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے چودھری شوگر ملز کیس میں نوازشریف کی ضمانت منظور کر لی، ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ نوازشریف چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظوری کے باوجود رہا نہیں ہوں گے۔

 

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے نواز شریف کے لیے شہباز شریف کی دائر کردہ درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا۔ کیا نواز شریف کی جان خطرے میں ہے؟ جس پر میڈیکل بورڈ کے سبراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا جی! نواز شریف کی طبیعت تشویشناک ہے۔ گزشتہ رات بھی ان کے سینے اور بازوؤں میں بھی تکلیف ہوئی۔ نواز شریف کا بون میرو ٹھیک ہے، ان کے خون کے خلیے جلد ٹوٹ پھوٹ رہے ہیں، ان کے پلیٹیلیٹس بہت جلدی گر جاتے ہیں۔

 

ڈاکٹر محمود ایاز نے نواز شریف کی مکمل میڈیکل ہسٹری عدالت میں بیان کی۔ کہا نواز شریف تب سفر کر سکتے ہیں جب ان کے پلیٹ لیٹس 50 ہزار ہوں۔ جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا، آپ نواز شریف کے اسپتال میں علاج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ ڈاکٹر ایاز محمود نے کہا نواز شریف کی بیماری کی مکمل تشخیص نہیں ہوئی، نواز شریف کو بیماری ہوئی کیسے اس بات کا پتا چلا رہے ہیں۔

 

جج نے نیب وکیل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کیا نیب اس درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے؟ نیب وکیل نے کہا نواز شریف کی صحت خطرے میں ہے تو ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔

 

عدالت نے ڈاکٹر محمود ایاز سے استفسار کیا کہ نواز شریف آپ سے بات کرنے کے قابل ہیں؟ عدالت کا کہنا تھا کہ آپ کی رپورٹ ہر کسی کیلئے اہم ہے۔ اشتر اوصاف علی ایڈووکیٹ نے کہا نواز شریف کی حالت انتہائی نازک ہے۔

 

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت میں وقفہ کے بعد فیصلہ سنایا۔ نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی۔ نیب کی جانب سے ضمانت کی مخالفت نہیں کی گئی۔

 

واضح رہے کہ نوازشریف چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظوری کے باوجود رہا نہیں ہوں گے، کیونکہ احتساب عدالت نے انہیں العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال سزا سنا رکھی ہے۔ نوازشریف کی رہائی العزیزیہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد ہی ممکن ہو گی۔ العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف رہائی کی درخواست پر سماعت منگل کو ہو گی۔ شریف خاندان کی نظریں اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر ہیں۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں