لاہور ہائیکورٹ: بسنت روکنے سے متعلق حکم امتناعی کی استدعا مسترد

لاہور(پبلک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے بسنت روکنے سے متعلق حکم امتناعی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پنجاب حکومت سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں ۔26 دسمبر تک جواب طلب کر لیا۔

 

جسٹس امین الدین خان نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار صفدر شاہی پیر زادہ  کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ بسنت خونی کھیل کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کی وجہ سے پابندی لگائی گئی تھی، کوئی بھی ایسی تفریح جو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے، اس کی اجازت دینا خلاف آئین ہے، درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بسنت جیسے خونی کھیل کی اجازت دے رہی ہے جبکہ ڈور پھرنے کے واقعات سے بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

متعلقہ خبر:پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت منانے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ پتنگ بازی کی وجہ سے اربوں روپے کی قومی املاک کا نقصان ہوا، لہذا عدالت حکومت کی جانب سے بسنت کی اجازت دینے کا اقدام کالعدم قرار دے۔ جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ بتائیں کیا پنجاب حکومت نے اجازت دے دی۔

 

درخواست گزار کے وکیل نے جس پر آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ نے اجازت دی اور شہریوں نے پتنگ بازی شروع کر دی ہے، گزشتہ روز دھاتی تار سے تین بہنیں جھلس گئیں۔ جسٹس امین الدین خان نے بسنت فوری طور پر روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا، کیس کی مزید سماعت 26 دسمبر کو ہوگی۔

عطاء سبحانی  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں