لاہور ہائیکورٹ: سانحہ ساہیوال تحقیقات سے متعلق جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست مسترد

لاہور(ادریس شیخ) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل کمیشن سے تشکیل سے متعلق درخواست مسترد کر دی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق قانون بتا دیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار شمیم کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی، جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ سیل بند لفافے عدالت میں پیش کی گئی، درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے کہ 7فروری کو وزیراعظم کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست دی، مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن ہم نے نہیں بنانا، یہ وفاق کا کام ہے، اگر قانون ہی نہیں ہے تو جوڈیشل کمیشن کیسے تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اگر عدالت جوڈیشل کمیشن تشکیل دے سکتی ہے، تو قانون پیش کریں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بھی جوڈیشل کمیشن پنجاب حکومت نے قائم کیا۔

 

عدالت میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئی جی پنجاب اعلیٰ پولیس اہلکاروں اور سی ٹی ڈی حکام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے اختیار نہ ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر جے آئی ٹی تشکیل دی۔ جے آئی ٹی سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ پنجاب ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس کے تحت ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا جائے اور جے آئی ٹی کی تشکیل کو غیر قانونی طور قرار دیکر تحقیقات سے روکا جائے۔

عطاء سبحانی  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں