بیگم کلثوم نواز کا زندگی نامہ

بیگم کلثوم نواز ہم میں نہیں رہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کینسر کے خلاف جنگ لڑتے زندگی کی بازی ہار گئیں۔ وہ لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں زیر علاج تھیں۔

 تین بار خاتون اول رہنے والی کلثوم نواز نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربیانیاں دیں۔ بیگم کلثوم نواز نے آمریت  کے دور میں پارٹی کو سنبھالا، تحریکیں چلائیں، بیگم کلثوم نواز کی زندگی جدوجہد کا استعارہ ہے۔ بیگم کلثوم نواز آمریت کے خلاف مزاحمت کا نام تھا۔

کلثوم نواز 1950 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ 1971 میں نوازشریف کے ساتھ رشتہ ازوداج میں منسلک ہوئیں۔ 1990 میں پہلی بار خاتون اول بنیں جب نوازشریف وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 1997 میں نوازشریف دوسری بار وزیراعظم بنے اور بیگم کلثوم نواز دوسری بار خاتون اول بنیں۔ 2003 میں بیگم کلثوم نواز تیسری بار خاتون اول کے منصب پر فائز ہوئیں۔

12اکتوبر 1999 میں فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف تنہا جدوجہد شروع کی۔ بیگم کلثوم نواز نے نہ صرف آمریت کے خلاف مزاحمت کی بلکہ اپنی پارٹی کو بھی سنبھالا۔

بیگم کلثوم نواز 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ ن کی صدر رہیں۔ جولائی 2000 میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تو انھیں گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ کلثوم نواز نے ایسے حالات میں آمریت کا مقابلہ کیا جب کئی نامور شخصیات نے گھٹنے ٹیک دئیے۔

2017 میں نوازشریف کی نا اہلی کے بعد بیگم کلثوم نے این اے 120 سے الیکشن لڑا۔ بیماری کے باعث وہ انتخابی مہم بھی نہ چلاسکیں۔ انھوں نے الیکشن تو جیت لیا لیکن شدید علالت کے باعث حلف نہ اٹھا سکیں۔ بیگم کلثوم نواز کی زندگی جدو جہد کا استعارہ ہے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں