عشق اور محبت کی لازوال داستان

 

دریائے ہاکڑا کی جاگیر اور وسیب دھرتی سے تعلق رکھنے والی لوک داستان کی وارث (سسی) کا تعلق  ہندو گھرانے سے تھا۔ جس کا تعلق جنوبی پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان کے نواحی قصبہ بھٹہ واہن سے تھا۔ جس کا باپ ایک آدم نامی ہندو سردار تھا۔ جس کو اس وقت کے جوتشی نے پیشین گوئی کی کہ تمہارے گھرانے میں ایک لڑکی پیدا ہوگی اور وہ ایک مسلمان لڑکے سے عشقِ کرے گی۔ جس پر اس کا باپ آگ بگولہ ہو گیا اور پیدا ہونے والی لڑکی کو ایک صندوق میں زیورات سمیت بند کرکے دریا کی لہروں کے حوالے کر دیا۔ جہاں سے وہ تیرتی ہوئی بلوچستان کے علاقے بھمبھور جا پہنچی اور دریا کنارے پر موجود ایک دھوبی نے بچی کو گود لیا اور وہاں سے سسی کے عشق کی داستان شروع ہوگئی جسکو سسی کے آبائی علاقے کے لوگ کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

 

سسی کا آبائی گھر جسکو مقامی زبان میں سسی دی ماڑی کہا جاتا ہے۔ وقت کے بے رحم حالات نے بوسیدہ اور کھوکھلہ کردیا ہے۔ جس سے وہ آثار قدیمہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سسی کی کہانیوں سے دلچسپی رکھنے والے افراد جب سسی کی جائے پیدائش پر تفریح کے لیے آتے ہیں تو ماڑی کی حالت زار دیکھ کر انکو مایوس لوٹنا پڑتا ہے۔

 

یوں تو سسی کے قصوں کی کئی کہانیاں اور لوک گیت زمانے میں عام ہو چکے ہیں۔ مختلف گلوکاروں نے اس پر کئی گانے گائے اور لکھاریوں نے اس پر کئی کہانیاں لکھی۔ کئی صقافتی فلمیں بھی بنائیں گئیں لیکن سسی کے آبائی علاقے کے لوگوں نے سسی کی یاد کو روہانی انداز میں بتایا کہ سسی کی یاد آج بھی ان کے دلوں میں تازہ ہے جس کی زندہ مثال سسی کی روح کو بھٹہ واہن کی گلیوں میں آج بھی دیکھا جاتا ہے۔

 

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ عشق کی داستان سسی کی جائے پیدائش  سسی کی ماڑی انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عمارت کی دوبارہ سے تعمیر کرواکر اسکو تاریخی ورثہ میں شامل کیا جائے۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں