پاکستان کی سیاست اور اخلاق سے گری جملہ بازی

وطنِ عزیز کی سیاست میں اخلاق سے گری باتیں کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ معاملہ بڑھا تو بڑھتا ہی گیا۔ پھر 80 کے اواخر میں ایک نئی سیاسی بدعت نے جنم لیا جو 99 تک جاری رہی۔

اس میں خواتین کے متعلق خوب مغلظات بکی گئیں۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے متعلق ایوان کے اندر اور باہر نہایت گھٹیا الفاظ استعمال کیے گئے۔ فحش جملے کسے گئے۔ معاملہ یہیں پر نہیں تھما بلکہ عملی طور پر نہایت گھٹیا حرکات کی گئیں۔ ان کی کردارکشی کے لیے باقاعدہ منظم تحریک چلائی گئی۔

ایسی تحریک کہ جس کا ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم لیگ ن کے موجودہ مرکزی رہنما اس وقت پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ موصوف نے مخالف جماعت کے لیڈر کی گھریلو خواتین بارے انتہائی نازیبا کلمات ادا کیے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی جو آج تلک رکارڈ کا حصہ ہے۔

اس جرم کی پاداش میں بے نظیر بھٹو نے انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ 2000کی دہائی کے ابتدائی سال کچھ سکون سے گذرے۔ دونوں بڑی جماعتیں توبہ تائب ہو گئیں۔ 2009 کے بعد یہ روش دوبارہ پنپنے لگی مگر نئے اور بہت ہی خطرناک انداز میں۔

اس بار فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹیلی وژن پروگرام میں کشمالہ طارق کی خوب کردار کشی کی۔ یہ واقعہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ خاتون سیاستدان ہی دوسری خاتون سیاستدان کی عزت پر حملہ آور ہوئیں۔ پھر یہ طوفانِ بدتمیزی رک نہ سکا۔

شیخ رشید نے بلاول بھٹو زرداری کو غلط نام سے پکارا۔ رانا ثناء اللہ شیخ رشید بارے برے القابات کا استعمال کرتے رہے۔ ایوان میں شیریں مزاری بارے خواجہ آصف نے نازیبا کلمات ادا کیے۔ ایک رکن سندھ اسمبلی نے ساتھی رکن بارے نازیبا گفتگو کی تو بلاول بھٹو زرداری نے اس کا نوٹس لیا اور انہیں معافی مانگنا پڑی۔

ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان کے بارے جو کہا سو کہا۔ پی ٹی آئی کی خواتین کے متعلق بھی خوب ہرزہ سرائی کی۔ اب 80اور 90 کی دہائی والا گند ایک بار پھر ملکی سیاست کو آلودہ کر رہا ہے۔

احمد علی کیف  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں