ایل ڈبلیو ایم سی میں مبینہ گھپلے، شہبازشریف سے تحقیقات شروع

لاہور (پبلک نیوز) آشیانہ اقبال اسکینڈل میں نیب کے زیرحراست سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے ایل ڈبلیو ایم سی میں مبینہ گھپلوں سے متعلق تحقیقات بھی شروع کر دی گئیں۔ نیب نے پراجیکٹ کا ریکارڈ حاصل کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کمپنیز اسکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے گرد  گھیرا تنگ ہونے لگا۔ نیب نے صاف پانی کمپنی، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میں اربوں روپے کے گھپلوں کے معاملے پر تحقیقات شروع کر دیں۔ منصوبے کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے قیام کے معاملے پر سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے اختیارات سے تجاوز کیا۔ اعلیٰ افسران کی سخت مخالفت کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ نے 19 مارچ 2010 کو لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بنائی۔ ذرائع کے مطابق سابق حکومت کے من پسند فیصلوں کے باعث خزانے کو 45 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ کمپنی میں بورڈ کی اجازت سے 16 ہزار ملازمین کی موجودگی میں الگ سے ملازمین رکھے گئے۔ 4 ہزار سے زائد ملازمین ریکارڈ میں بوگس ظاہر کیے گئے۔ جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کچرا اٹھانے کی مد میں نہ صرف غیر ملکی کمپنیوں کو پیسے دیتی رہی بلکہ 5500 ٹن کچرے کی مقدار کو 7500 ٹن ظاہر کر کے قومی خزانے کو 32 لاکھ روپے روزانہ کا خسارہ دیا گیا۔ نیب نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ اسی کیس میں لیگی رہنما خواجہ احمد حسان پہلے ہی پیش ہو کر بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں