حکومت جھوٹوں کا ٹولہ ہے: مریم اورنگزیب

پبلک نیوز: ترجمان پاکستان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کومت جھوٹوں کا ٹولہ ہے۔ وزراء کے پاس کارکرگی بتانے کے لیے کچھ نہیں، سب جھوٹ بولتے ہیں، لاڈلے وزیر مراد سعید کی وجہ سے قائمہ کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوتا، پارلیمنٹ کو مفلوج بنایا جا رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الزام خان کے ترجمان ہیں چھوٹو الزام وزیر فواد چوہدری ہیں جو بری خبر پر کہتے ہیں پچھلوں کی کارروائی تھی۔ 80 فیصد گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے والا ہے۔ چھوٹو الزام وزیر اس الزام کو شاہد خاقان عباسی پر عائد کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے قائدین کا حکم ہے کہ ہم جھوٹ نہ بولیں۔ یہ حکومت تو جھوٹو کا ٹولہ ہے۔ ابھی صارفین کی تمام چیزین مہنگی ہوں گی۔ وزراء کے پاس کارکرگی بتانے کے لیے کچھ نہیں، سب جھوٹ بولتے ہیں۔ پیٹرولیم کے وزیر کو کیوبک فٹ اور کلوواٹ کا فرق ہی معلوم نہیں۔

ن لیگ کی ترجمان نے کہا کہ جھوٹے لوگ عوام کو ائی ایم ایف کے معاہدے بارے بتائے۔ وزیر اعظم جب نااہل اور جھوٹا ہو تو ایسی صورتحال ہوتی ہے۔ خواجہ اصف اورشاہدخاقان عباسی پر الزام لگا دیا گیا کہ گیس انکی وجہ سے مہنگی ہورہی ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ لاڈلے وزیر مراد سعید کی وجہ سے قائمہ کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ کو مفلوج بنایا جا رہا ہے۔ الزام خان نے اپنے چھوٹو الزام وزیر کو الزام لگانے پر مامور کر رکھا ہے۔ ہر اچھے کام پر کہتے ہیں ہم نے کیا اور ہر غلط کام پر اپوزیشن کی وجہ سے ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی شور مچتا ہے معلوم ہوتا ہے کوئی نئی بری خبر آنے والی ہے۔ آج معلوم ہوا کہ گیس کے نرخوں میں اسی فیصد اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ آج چھوٹو وزیر کو ٹاسک ملا کہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف بات کرے۔ شاہد خاقان عباسی کے دور میں گیس کمپنیاں خسارے میں نہیں تھیں۔ بات چھ سو ارب کی منی لانڈرنگ سے شروع ہو کر ختم اقامہ ہر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس کے علاوہ بجلی کے نرخ بھی بڑھائے جا رہے ہیں۔ جھوٹے لوگ اور جھوٹی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرے۔ مہنگائی کے باعث پھل اور سبزیاں اب عوام صرف ڈیکوریشن کے لئے استعمال کریں گے۔

کم از کم جھوٹ بولتے ہوئے یہ سوچ لیا کریں کہ پچھلی مرتبہ جھوٹ کیا بولا تھا۔ ہم نے اربوں کے منصوبے لگائے، موٹر ویز بنائیں، اندھیرے ختم کئے، سابق حکومتوں کا رونا نہیں رویا۔ شریف خاندان کے ڈیکلئیرڈ اثاثے ایف بی آر سے لے کر چوراہے میں بات کرتے ہیں۔

ہم پر الزامات کو ثابت کریں۔ چور چور کہنا بند کریں۔ آپ کہتے تھے لوگ ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ چور حکمران ہیں۔ آج کیوں لوگ ٹیکس نہیں دے رہے۔ صدارتی نظام کے حوالہ سے افواہوں کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو سخت مزاحمت کریں گے۔

احمد علی کیف  4 روز پہلے

متعلقہ خبریں