اپوزیشن جماعتیں عوام کی آواز نہ بنیں تو ان کے غیض و غضب کا نشانہ بنیں گی: مریم نواز

لاہور (پبلک نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کو جو حکم ملتا ہے، وہ کر دیتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں عوام کی آواز نہ بنیں تو ان کے غیض و غضب کا نشانہ بنیں گی۔ ہم جیل، قید، سیاسی انتقام اور جلاوطنی سمیت سب کچھ بھگت چکے، مجھے ایسی کسی بات سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔

خواجہ سعد رفیق کے گھر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کل خواجہ برادران کی ضمانت مسترد کر دی گئی۔ کل خواجہ سلمان کی طبیعت خراب تھی لیکن انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کیا جا رہا تھا۔ اس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ خواجہ سعد کی غلطی نالائق اعظم کے مدمقابل 2 بار انتخابات لڑنا تھی۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نیشنل ترقیاتی کونسل کو بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ نوکری کیا اور نخرہ کیا۔ بلاول سے بہت سے معاملات پر بات ہوئی۔ ان ہاوس تبدیلی، سینٹ کے چیئرمین کی تبدیلی اور احتجاجی تحریک کے لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ ابھی بھی مذاکرات جاری ہیں لیکن اصل فیصلے اے پی سی میں ہوں گے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا اور بلاول کی ملاقات کا اصل ایجنڈہ ظالمانہ بجٹ کے حوالے سے تھا۔ بجٹ سے عام آدمی کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے۔ بجٹ سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بجٹ کی منظوری میں جو بھی حصہ لے گا، وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہو گا۔

نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ نیب کے قانون کی بہت بڑی بڑی آنکھیں ہے جو دیکھ لیتی ہیں کہ ملزم کا تعلق ن لیگ یا پی پی سے ہے، اگر نہیں ہے تو انہیں نہیں پکڑنا۔ جبکہ صدقہ خیرات کے علاوہ کوئی آمدن کا ذریعہ نہ ہونے کے باوجود علیمہ خان جرمانہ دے کر اعتراف کر چکیں۔ ان کی اربوں کی جائیدادیں ہیں لیکن وہ نیب کو نظر نہیں آتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جیل، قید، سیاسی انتقام اور جلاوطنی سمیت سب کچھ بھگت چکے، مجھے ایسی کسی بات سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ ووٹ چور اور سازش سے حکومت آئی ہے تو اس حکومت کو ایسا ہی کہنا چاہیے، مجھے اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اگر کسی جماعت نے کوئی غلطی کی ہے اور وہ اسے درست کرنا چاہتی ہو تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

میڈیا ٹاک میں بتایا کہ نالائقوں کی حکومت کو ختم کرنے پر ہر جماعت متفق ہے۔ احتجاج کی نوعیت، فریکوئنسی اور شکل کا فیصلہ اے پی سی میں ہو گا۔ میرا ورکرز کنونشنز کا شیڈول بالکل تیار ہے جو آئندہ چند دنوں میں فائنل کر لیا جائے گا۔

ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ عوام اپوزیشن جماعتوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اگر اپوزیشن جماعتیں عوام کی آواز نہ بنیں تو وہ بھی عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بن جائیں گی۔ یہ اتنے نالائق ہیں کہ یہ سب کو بھی جیل میں بھجوا بھی دیں تو پھر بھی وہ حکومت نہیں کر سکتے۔ وہ سازش کے تحت اقتدار میں آئے ہیں، وہ ابھی کنٹینر سے نہیں اترے ہیں، ان کی تربیت ہی وہیں ہوئی ہے۔

اپنی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کو سیاسی اقدار کا علم نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کی آواز بننا چاہیے۔ پارلیمان میں کیا چل رہا ہے، وہ پارلیمانی لیڈر بہتر جانتے ہیں۔ پکڑ دھکڑ اور گھبراہٹ کے مظاہرے سے لگتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے، معاملات ان کے لیے آسان نہیں ہے۔

احمد علی کیف  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں