شہبازشریف کی میثاق معیشت کی تجویز مریم نواز نے مسترد کر دی

لاہور(پبلک نیوز) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اسلام ہائی کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد ہو گئی، کچھ ایسے حقائق ہیں جو اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے۔ میاں صاحب کو 15 سے 20 سال سے دل کا عارضہ ہے۔

 

مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور رہنماء مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی طبیعت خراب ہوئی تو مجھے سپرنٹنڈنٹ کے آفس آنے کا کہا گیا، مجھے کہا گیا نواز شریف کی طبیعت خراب ہے، انہیں کہیں ہسپتال چلے جائیں، نواز شریف نے ہسپتال جانے سے انکار کر دیا گیا، میں نے کہا نواز شریف ہسپتال نہیں جانا چاہتے تو رہنے دیں، کہا گیا ہسپتال نہ گئے تو خطرہ ہے۔ نواز شریف کو آئی سی یو میں رکھا گیا، میاں صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، ہمیں کوئی ریکارڈ نہیں دیا گیا۔ میاں صاحب کی صحت ٹھیک نہیں، پھر بھی ضمانت نہیں دی گئی، کئی بار ڈاکٹرز نے کہا میاں صاحب کا معاملہ بہت پچیدہ ہے۔ نواز شریف کی صحت کا مقدمہ عوام کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں۔

 

مریم نواز نے کہا کہ سب حالات کو دیکھتے ہوئے بھی کیوں ریلیف نہیں دیا گیا، علم نہیں۔ عدلیہ کا دروازہ بار بار کھٹکھٹانے کے باوجود کیوں ضمانت نہیں ملی، اللہ جانتا ہے یا عدلیہ، میاں صاحب کو اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہو گی، جو ملوث ہیں، ہمیشہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں ملاقات ہوتی ہے، ملاقات کے دوران کیا باتیں ہوتی ہیں، نظر رکھی جا رہی ہے، آج یہ نوبت آگئی ہے ملاقات پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ پوچھا گیا آپ کون ہو تو وہ گھبرا گیا اور کہنے لگا، میری ڈیوٹی لگی ہے۔ نواز شریف "ووٹ کو عزت دو "نعرے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شکست کھا گئی، نواز شریف بند سلاسل کے باوجود طاقتور ہیں، مریم نواز نے میثاق معیشت کو مذاق معیشت قرار دے دیا۔ میری ذاتی رائے ہے میثاق معیشت مذاق معیشت ہے، شہباز شریف کی اپنی رائے ہے میری اپنی رائے ہے، نواز شریف کو جعلی حکومت سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا، جو خود کسی کا محتاج ہو وہ کیا کسی کو ریلیف دے گا، نواز شریف میرے لیڈر ہیں، ان کا مقدمہ ہر جگہ لڑوں گی، میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔

 

مریم نواز کا کہنا تھا کہ۔ اسلام آبادہائی کورٹ سے نوازشریف کی ضمانت کی درخواست مستردہوگئی، کچھ ایسےحقائق ہیں جواب تک عوام کے سامنے نہیں آئے۔ نواز شریف کی صحت کا مقدمہ عوام کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں، نوازشریف کو 3 ہارٹ اٹیک ہو چکے ہیں، میاں صاحب کو15 سے20 سال سے دل کا عارضہ ہے۔ تیسرا ہارٹ اٹیک تب ہوا جب میں اور میاں صاحب اڈیالہ جیل میں تھے، نواز شریف کے ذاتی معالج کولاہور سے ایمرجنسی میں بلایا گیا، مجھے جیل حکام نے بلایا کہ آپ میاں صاحب سے مل لیں۔

 

لیگی ہنماء نے کہا کہ جیل حکام نے ہمیں میاں صاحب کی صحت کے بارے میں بتایا، میں نے ایک گھنٹہ لگا کر میاں صاحب کو ہسپتال جانے کے لیے تیار کیا، مجھے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ میاں صاحب کو کیا ہوا ہے۔ پمز ہسپتال کے ڈسچارج سرٹیفکیٹ میں ہارٹ اٹیک کی تصدیق کی گئی، میاں صاحب کو7 اسٹنٹس پڑ چکے ہیں، نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری پہلے بھی ہو چکی ہے، اگرمیاں صاحب کو کچھ ہو جاتا تو ذمہ دار کون ہوتا؟70 صد ڈاکٹروں کا مشورہ ہے نواز شریف کو ایک اور سرجری کی ضرورت ہے۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں