پارٹی عہدہ سے ہٹانے کیلئے دائر درخواست پر مریم نواز کا جواب جمع

اسلام آباد(پبلک نیوز) آئین اور الیکشن ایکٹ میں سزا یافتہ شخص کے پارٹی عہدہ رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں۔ مریم نواز نے مسلم لیگ ن کی نائب صدارت سے ہٹانے کے لیے درخواست میں اپنا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا۔ انہوں نے استدعا کی ہے کہ درخواست کو خارج کیا جائے۔

 

مریم نواز کو مسلم لیگ ن کی نائب صدارت سے ہٹانے کے لیے تحریک انصاف کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ مریم نواز مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے وکلا پیش ہوئے۔ مریم نواز نے اپنے تحریری جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ شخص پارٹی کا عہدیدار نہیں ہو سکتا۔ آمریت کے ادوار میں عوامی نمائندوں کو منتخب کرنے سے روکنے کیلئے اس طرح کے قوانین بنائے جاتے تھے۔

 

انہوں نے جواب میں لکھا کہ سیاسی جماعتوں کے آرڈر 2002 میں شق رکھی گئی تھی کہ سزایافتہ شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017ء میں اس شق کو ختم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا الیکشن کمیشن پر اطلاق نہیں ہوتا۔ ملیکہ بخاری اور دیگر درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ درخواست ناقابل سماعت ہے، خارج کی جائے۔ مسلم لیگ ن کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی۔ الیکشن کمیشن نے سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں