سابق وی سی جامعہ پنجاب ڈاکٹر مجاہد کامران کیخلاف ریفرنس کا معاملہ لٹک گیا

لاہور(شاکر محمود اعوان) نیب لاہور نے جامعہ پنجاب کرپشن ریفرنس مکمل کر لیا، چیئرمین نیب نے تاحال منظوری نا دی،7 ماہ سے زائد سے کا عرصہ گزرنے کے باوجود ریفرینس احتساب عدالت میں دائر نا ہو سکا۔ نیب ریفرنس میں ڈاکٹر مجاہد کامران سمیت 7 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

 

سابق وی سی جامعہ پنجاب ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف ریفرنس کا معاملہ لٹک گیا۔ چیئرمین نیب کی منظوری نہ ہونے سے ریفرینس تاحال احتساب عدالت میں دائر نہیں ہو سکا۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کیخلاف نیب لاہور نے 27 اکتوبر 2016 میں تحقیقات کا آغاز کیا۔ 2 سال انوسٹی گیشن اور انکوائری ہونے کے بعد 11 اکتوبر 2018ء کو سابق وائس چانسلر سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ 4 نومبر کو تمام ملزمان کی درخواست ضمانت لاہور ہائیکورٹ نے منظور کی۔

 

نیب لاہور کے تیار کردہ ریفرنس میں مجاہد کامران پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے خلاف قانون 454 افراد کو کنٹکریکٹ پر بھرتی کیا، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مجاہد کامران نے 18 ویں اسکیل سے 21 اسکیل کی بھرتیاں کیں، مجاہد کامران نے بوگس ڈگری ہولڈرز اور ناتجربہ کار افراد کو بھرتی کیا اور اس عمل میں دیگر لوگوں کو بھی ساتھ ملایا، نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ مجاہد کامران نے قوانین کے برعکس غیر ملکی اسکالرشپ اپنے پسندیدہ افراد کو دیں۔

 

ریفرنس میں دیگر ملزمان میں سابق رجسٹرار راس، مسعود، ایڈشنل رجسٹرار کامران عابد، رجسترار ڈاکٹر لیاقت علی، ڈاکٹر اورنگزیب عالیمگیر، ڈاکٹر امین اطہر، ڈاکٹر شاہد کمال کو نامزد کیا گیا ہے۔ نیب نے تاحال ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔ نیب قوانین کے مطابق گرفتاری کے 90 دن کے اندر ریفرنس احتساب عدالت میں فائل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں