سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اسلام آباد(پبلک نیوز)سابق وزیراعظم نواز شریف کی دل کے عارضے کے علاوہ گردوں کی بیماری بھی بڑھ گئی۔ رہا کرنے پر بھی علاج ممکن ہے، نوازشریف کی طبی بنیاد پر دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ سماعت کرے گی۔

 

نواز شریف کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ کل اہم سماعت کرے گا۔ نواز شریف کی مرکزی اپیل 18 فروری کو سماعت کے لئے مقرر ہے۔ نوازشریف کو دل کا عارضہ۔ گردوں کی بیماری تیسرے درجے تک پہنچ گئی۔ پانچویں درجے پر پہنچی تو گردے مکمل ناکارہ ہونے کا خدشہ۔ لیگی قائد کو شوگر کی بیماری بھی لاحق، انحصار انسولین پر ہے۔ نواز شریف کا درخواست ضمانت میں مؤقف اختیار کیا گیا۔

 

درخواست کے مطابق نواز شریف ہائپر ٹینشن کی کیفیت میں بھی مبتلا ہیں، جبکہ ان کے دل کا ایک حصہ بھی بری طرح متاثر ہے۔ جیل کے ماحول میں ان کی بیماری مزید بگڑ بھی سکتی ہے۔ اس لیے موجودہ حالات میں انہیں رہا کرنے سے علاج ممکن ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کیخلاف اپیل کا فیصلہ آنے تک سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں