وفاقی کابینہ نے صوابدیدی فنڈز واپس لینے کی منظوری دے دی

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی کابینہ نے صوابدیدی فنڈز واپس لینے کی منظوری دے دی۔ اس فنڈ کے استعمال کا اختیار پارلیمنٹ کو مل گیا۔ تربیلا کے 25 ارب روپے منصوبے کی تحقیقات کی منظوری بھی دی گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے عاطف میاں کی تقرری کی وضاحت بھی دے دی۔ کہا تقرری اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ پی آئی اے کا چارج سیکرٹری ایوی ایشن کو سونپ دیا گیا۔وزارتوں اور ڈویژنز کے صوابدیدی فنڈز واپسے لئے جائیں گے۔سربراہ این آئی آر سی کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی اداروں میں معذور افراد کو رسائی کی فوری سہولت دی جائے۔وزارت خارجہ کو کہا گیا کہ  تارکین وطن کے ساتھ رویہ بہتر بنایا جائے۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرنےلوٹی ہوئی دولت کی بیرون سےواپسی سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ کابینہ میں 80 ارب کے صوابدادی فنڈز واپس کر دیئے۔یہ فنڈز پارلیمان کے پاس واپس چلے گئے ہیں۔تربیلا کے25 ارب روپے منصوبے کی تحقیقات کی منظوری بھی دی گئی۔مدارس اور سکولوں کے نصاب کو یکساں کیا جائے گا۔

عاطف میاں کی تقرری اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کی گئی۔ اقلیتوں کو ساتھ لے کرچلا جائے۔ کیا ہم تمام اقلیتوں کوبحیرہ عرب میں ڈبو دیں؟

معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ پیسوں کی واپسی کے لئے نیا قانون بنایا جائے گا۔ معاونت کرنےوالے کو 20 فیصد ادائیگی کی جائے گی۔

احمد علی کیف  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں