میر تقی میر کو دنیا سے رخصت ہوئے 209 برس بیت گئے

 

پبلک نیوز: آج شہنشاہ اقلیم سخن میر تقی میر کی 209 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے معروف شاعر میر تقی میر کی شاعری اردو ادب کے لیے اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔

 

1723 کو پیدا ہونے والے میر تقی میر کا اصل نام محمد تقی تھا۔ ناقدین نے ان کو خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد میر1748  کو گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنو پہنچے تو ان کی شاعری کا شہرہ ہوا۔ میر نے رباعی، مثنوی، قصیدہ اور غزل کو عروج ادب پر پہنچا دیا۔


مرزا اسد اللہ غالب اور میر تقی میر کی شاعری کا تقابلی جائزہ اہل ادب کے ہاں عام ہے، مگر خود غالب بھی میر کے شیدائی تھے۔

 

غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ

آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں

 

اقلیم سخن کا یہ حرمان نصیب شہنشاہ آج کے ہی کے دن 1810 کو ہمیشہ کی نیند سو گیا۔

اب جان جسم خاک سے تنگ آگئی بہت
کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھوئیے

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں