پاک فوج وزیرستان سے چلی جائے، محسن داوڑ کا ریاست مخالف مطالبہ

اسلام آباد(سلمان علی اعوان) پاکستان دشمنی پر مبنی ایجنڈا بے نقاب، پی ٹی ایم کی بلی تھیلے سے باہر آ گئی، شمالی وزیرستان سے پاک فوج کی واپسی کا مطالبہ کر کے خود ہی ثابت کر دیا کہ پی ٹی ایم کی قیادت ملک دشمنی پر مبنی غیر ملکی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہے۔

 

محسن داوڑ اپنے دل کی بات زبان پر لے آئے، خارقمڑ حملہ آور ہونے کی وجہ اور حقیقت خود ہی بیان کر دی۔ شمالی وزیرستان میں آگ لگا کر بھاگ جانیوالے روپوش محسن داوڑ نے ایک غیر ملکی انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ اب پاک فوج وزیرستان سے چلی جائے۔ محسن داوڑ نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب پاک فوج کی برسوں کی محنت سے حاصل امن کو خراب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ محسن داوڑ نے جو دہشت گردوں کے سہولت کار کو چھڑوانے کے لئے حملے اور ہلاکتوں کا ذمہ دارہے۔ نامعلوم مقام پر انٹرویو دیا۔

 

محسن داوڑ ٹی ٹی پی اور دہشت گردوں کے مطالبے کو دہرانے لگے۔ کیا یہ ٹی ٹی پی اور محسن داوڑ گٹھ جوڑ ہے؟ اس گٹھ جوڑ کا ذکر مراد سعید نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں محسن داوڑ کے حوالے سے کیا تھا۔ امن کی بحالی اور شہریوں کی واپسی کے بعد پاکستان دشمن عناصر ایک بار پھر علاقہ کا امن تباہ کرنے کے لئے وارد ہو چکے ہیں۔ محسن داوڑ کے بیان سے حقیقت عیاں ہو گئی کہ وہ کس طرح غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، یہ غیرملکی قوتوں کی خواہش ہے کہ پاک فوج ان علاقوں سے نکل جائے۔

محسن داوڑ کے انٹرویوز کی تشہیر وہ عناصر کررہے ہیں جو ماضی میں بھی بیرون ملک بیٹھ کر ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے چھے مہینوں میں مجموعی طور پر پاکستان کے خلاف حقیقت کے برعکس بین الاقوامی میڈیا میں تین سو سے زیادہ نیوز رپورٹس جاری ہوئیں۔ بالخصوص بی بی سی اردو نے 160 اور وائس آف امریکہ اردو نے بھی160 مرتبہ پاکستان کے خلاف جانبدارانہ رپورٹنگ کی۔

 

سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی میڈیا بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی، ہندوتوا تحریک، اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف بھی آواز اُٹھاتا ہے؟ کیوں انڈیا میں ہونے والی Naxalite Movement پر کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی؟ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم کو بین الاقوامی میڈیا نے کبھی اُجاگر کیا ہے؟ کیا کبھی افغانستان میں ہونے والے مظالم کے بارے میں بھی بین الاقوامی میڈیا نے آواز اُٹھائی؟

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں