امیر جمیعت علمائے اسلام (س) مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملہ میں جاں بحق

راولپنڈی (پبلک نیوز) جمعیت علمائے اسلام (س) کے چیئرمین مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں وہ جاں بحق ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مذہبی سکالر اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ ان پر قاتلانہ حملہ تھانہ ایئرپورٹ کے علاقہ میں کیا گیا۔

مولانا سمیع الحق کے بیٹے بیٹا حامد الحق نے ان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق پر حملہ گھر پر کیا گیا۔ ان پر چھرے سے کئی وار کیے گئے۔ مولانا سمیع الحق گھر پر آرام کر رہے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منقتل کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔

واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو خیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ مولانا سمیع الحق بہت بڑے مذہبی اسکالر، معروف عالم اور مدبر سیاست دان بھی تھے۔

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد کے بنائے ہوئے مدرسے دارالعلوم حقانیہ میں حاصل کی تھی۔ مولانا سمیع الحق خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں قائم اس دینی مدرسہ کے سربراہ بھی تھے۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں