جعلی اکاؤنٹس کیس: جے آئی ٹی کی تہلکہ خیز رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اسلام آباد (پبلک نیوز) جعلی اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کیس کی مشترکہ تحقیقات (جے آئی ٹی) نے اپنی تہلکہ خیزرپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ تحقیقات کے دوران 300 سے زائد جعلی اکاؤنٹس اور 600 سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے سات سو ارب سے زائد منی لانڈرنگ کی گئی۔

جعلی اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ  کیس کی جے آئی ٹی نے اپنی تہلکہ خیز رپورٹ  سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ رپورٹ 12 والیمز پر مشتمل ہے لیکن ذرائع کے مطابق ابھی نامکمل ہے۔ کیونکہ اہم شواہد پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے سیکڑوں بینک ملازمین سے تحقیقات کیں اور انھوں نے سارے راز اگل دیئے۔ تحقیقات میں 300 سے زائد جعلی اکاؤنٹس  اور 600 سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعہ سات سو ارب سے زائد منی لانڈرنگ کی گئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اپنے نام پر بینک اکاؤنٹس کھولنے کے عوض کچھ افراد نے معاوضہ وصول کیا تو کچھ نے رشتہ داروں اورعزیزوں کو بیرون ملک بھجوایا۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعہ دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی کی گئی۔ سنگین جرائم میں بھی یہی جعلی اکاؤنٹس ملوث رہے۔

جے آئی ٹی نے آصف زرداری، فریال تالپور سمیت سیکڑوں افراد سے تحقیقات کیں۔ بلاول بھٹو کو دوبار بلایا گیا مگر وہ نہ آئے۔ ان کے وکلاء نے جواب جمع کرایا۔ انورمجید، عبدالغنی مجیداورحسین لوائی سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ جے آئے ٹی رپورٹ میں بحریہ ٹاؤن اور ڈی بلوچ کمپنی کا نام بھی شامل ہے۔ وعدہ معاف گواہوں سے حاصل کردہ تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں سندھ حکومت کی مداخلت کرنے اور تعاون نہ کرنے کا بھی انکشاف  ہوا ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ تحقیقات شروع ہوتے ہی اومنی گروپ کی تمام شوگر ملز سے چینی غائب کر دی گئی۔ جس کے بعد اومنی گروپ نے بینکوں سے مذاکرات بھی کیے۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں