سری لنکا میں دھماکے: بھارت کے ملوث ہونے کے مزید سچ سامنے آنے لگے

کولمبو(پبلک نیوز) سری لنکا میں ہونے والے دھماکوں کے پیچھے بھارت ہی کا ہاتھ تھا، ایک ایک کر کے مزید سچ سامنے آنے لگے، سری لنکن آرمی چیف نے حقائق سامنے لاتے ہوئے سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔

 

بھارت کا مکرہ چہرہ سامنے آنا چاہیے تھا جو دہائیوں سے اپنے ہمسائے ممالک میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے، اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت ہو چکی ہے کہ بھارت دہشت گرد تیار کرتا ہے، پھر ان کو اپنے ہمسائے ممالک میں بھیجتا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت دہشتگردوں کو چھت مہیا کرتا ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق نیپال سے ہے۔ نیپال ایسا ملک ہے جس پر بھارت آزادی کے پہلے دن سے ظلم ڈھا رہا ہے، اب ان مظالم کا سہرہ مودی حکومت کے سر جاتا ہے۔

متعلقہ خبر:سری لنکا میں دھماکے: چشم کشا انکشافات، تانے بانے بھارت سے جا ملے

بھارت کا طریقہ واردات انتہائی شاطرانہ ہے، جس کی سب سے بڑی اور حالیہ مثال سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے دھماکے ہیں، بھارت چھوٹے ممالک کو اپنی کالونی سمجھتے ہوئے اپنے مغموم مقاصد کیلئے استعمال بھی کرتا ہے۔ بھارت نیپال کو سری لنکا کے خلاف استعمال کرتا ہے، نیپال اس ڈر کی وجہ سے کٹھ پتلی بن جاتا ہے کہ کہیں اس کا کہا نہ مانا تو تمام مظالم کا رخ اسی کی جانب نہ ہو جائے۔

 

ایسٹر دھماکوں کے تانے بانے سری لنکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی سے جا کر جڑتے ہیں، بھارت نہیں چاہتا کہ سری لنکا چین کے قریب ہو، یہی کچھ بھارت بھوٹان میں بھی کر رہا ہے، بھوٹان اور چین کے درمیان تبت کی وجہ سے ہونے والی جنگ کے ایک عرصہ بعد بھوٹان پھر سے چین کے قریب ہونے لگا جس کو ناکام بنانے کیلئے ڈوکلام جیسا واقعہ سامنے آیا۔ نیپال کے ماؤ اسٹوں نے بھارت کے ساتھ اس وقت اپنے تعلق بنائے جب مودی کی پارٹی بی جے پی اقتدار میں تھی، اس وقت اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم تھے جبکہ بعد میں من موہن سنگھ نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا تو انھوں نے بھی تعلقات کو خوب نبھایا۔

 

ان تمام حقائق کی تصدیق سری لنکن آرمی چیف نے کر دی، ایسٹر دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں کے حوالے سے انھوں نے بی بی سی کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ دہشت گرد پہلے بھارت گئے، جہاں سے مقبوضہ کشمیر پہنچے، اگلا مقام بینگلور تھا جبکہ بعد میں بھارتی ریاست کیرالہ کا سفر بھی کیا، بھارت کے مختلف مقامات پر رہتے ہوئے دہشت گرد باقاعدہ تربیت حاصل کرتے رہے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں