محمد بن سلمان کا دورہ اور پاک سعودیہ تعلقات

پاکستان سعودی عرب تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے، ماضی میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات کی نظیر نہیں ملتی، سعودی عرب ہر کڑے وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا، دونوں برادر اسلامی ممالک میں عسکری، معاشی، تجارتی، اور روحانی تعلقات ہیں۔

برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے پاکستان سے تعلقات بے نظیر و لازاوال ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب ہر کڑے وقت میں وطنِ عزیز کی مدد کے لیے پیش پیش رہا۔ قرطاسِ تاریخ کے دہن کو زباں عطا کی جائے تو سب سنائی دیتا ہے اور وہ بھی باآوازِ بلند۔ سعودی عرب ان پہلے ممالک میں سے تھا جنہوں نے مملکتِ خداداد پاکستان کو تسلیم کیا۔

1951 میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدہء دوستی طے پایا، جس نے پائیدار دوستی کی مضبوط بنیادیں قائم کیں۔ 1965 کا پاک بھارت معرکہ ہو یا 1971 کی جنگ، سعودی عرب نے پاکستان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی۔

1974 میں او آئی سی اجلاس کی میزبانی کا شرف پاک سرزمین کو حاصل ہوا۔ اس کا انعقاد بھی سعودی عرب ہی کی محنت کا ثمر تھا۔ اس وقت کے سعودی فرماں روا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے پاکستان کو شرفِ میزبانی بخشا۔

پاکستان نے بھی ان سے والہانہ محبت کو ثبوت دیتے ہوئے لائل پور کا نام فیصل آباد رکھا۔ اس کے علاوہ کراچی کی شاہراہِ فیصل اور اسلام آباد کی فیصل مسجد بھی اسی عظیم ہستی کے نام سے منسوب کی۔

سعودی فرماں روا شاہ فیصل کے علاوہ شاہ فہد اور شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ دوسری جانب افغان جہا د اورافغان مہاجرین کے مسئلے کے حل میں بھی سعودی عرب وطنِ عزیز کی مدد میں پیش پیش رہا۔

پاکستان کی براہِراوت مالی معاونت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے صحت، تعلیم، انفراسٹکرچراور فلاحی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حہا لیا۔ 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک پر بد ترین عالمی پابندیاں عائد ہوئیں تو سعودی عرب اس موقع پر بھی بڑا بھائی بن کر سامنے آیا۔

ایک برس تک 50ہزار بیرل تیل ادھار دیا۔ 2005 کے بد ترین زلزلے اور 2010 کے تباہ کن سیلاب میں سعودی عرب نے پاکستان کی مدد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ چند برس قبل بھی پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالرز تحفتاً پیش کیے۔ پاکستان نے بھی ہر اہم موڑ پر سعودی عرب کی حمایت کی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بے، مثال عسکری تعلقات بھی ہیں۔ حرمین شریفین کی سیکورٹی پاکستان اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی نے قرارداد بھی پاس کی ہے۔

قرارداد واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے سرحدی استحکام کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے 1680 افسر اور جوان سعودی عرب میں سعودی افواج کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کے 77 ملٹری کیڈٹس ملٹری اکیڈمی کاکول میں ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان کے 26 لاکھ ہنر مند سعودی عرب میں کسبِ حلال میں مگن ہیں۔ یہ پاکستانیوں کی کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ سب سے زیادہ زرِ مبادلہ بھی سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہی وطن بھیجتے ہیں۔ ان کی جانب سے 18-2017 میں 4۔8 ارب ڈالرز پاکستان بھیجے گئے۔

دوسری طرف 35 سعودی کمپنیز پاکستان میں کام کررہی ہیں۔ سعودی عرب نے حال ہی میں پاکستان کو 12 عرب ڈالرز کا معاشی پیکج دیا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے میں دونوں برادر اسلامی ممالک میں اربوں ڈالرز کے معاہدوں کا بھی امکان ہے۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں