احتجاج سب کا حق ہے مگر اسے روکنا کہاں کا انصاف ہے؟ مرتضیٰ وہاب

کراچی(پبلک نیوز) مشیر اطلاعات سندھ پیپلز پارٹی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ مارچ مستقبل میں قرارداد پاکستان کے ساتھ تھر کے سنگ میل کی طرح یاد رہے گا۔ تھر کے سندھ کے اور پاکستان کے کوئلے سے بجلی پیدا کی گئی۔

 

سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ پیپلز پارٹی مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ تھر کول ملک کی توانائی تحفظ شہید بی بی کا خواب تھا۔ 2008میں تھر کول منصوبے پر جانشین حکومت نے اس خواب کی بنیاد رکھی، اس خواب کا بڑا مذاق اڑایا گیا۔ اس مہینے 330 میگا واٹ تھر سے بجلی کی شروعات ہوئی۔

 

مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ تھر کے سندھ کے اور پاکستان کے کوئلے سے بجلی پیدا کی گئی، ملک کو سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے مبارکباد دیتے ہیں۔ ملک تیل اور کوئلے کے امپورٹ سے ہم پیسے باہر دیتے ہیں۔ حکومت کو کہتے ہیں اب کوئلہ لینے اور تیل خریدنے کے بجائے ملک کے کول پلانٹ میں تھر کا کوئلہ استعمال کرنا چاہیئے۔ اپریل میں ایک اور 330 میگا واٹ اگلے مہینے سے بجلی ملنا شروع ہو گی۔

 

مشیر اطلاعات سندھ پیپلز پارٹی نے کہا کہ بلاؤل منصوبوں کا اپریل میں افتتاح کریں گے۔ خفگی کا اظہار بھی کرتا ہوں تھر سے فارین ایکسچنج بچ سکتا ہے مگر اس کے لیئے جواب مثبت نہیں مل رہا، ہماری قیادت کو اسلام آباد جانے پر حراسان کیا جاتا ہے۔ کارکن گرفتار کرنا اور جیلوں میں ڈالنا کیسا پیغام ہے۔ جمہوریت میں یہ حکومت کیسے کام کر رہی ہے۔ احتجاج سب کا حق ہے مگر اسے روکنا کہاں کا انصاف ہے۔ ماضی میں پی ٹی وی پر حملے اور موجودہ صدر کے بیان بھی سامنے ہیں، اب اقتدار ملنے کے بعد روییے تبدیل ہیں۔

 

مشیر اطلاعات سندھ پیپلز پارٹی مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ اب اگر خان صاحب پر بھی ماضی کے مقدمات ہونے چاہئیں۔ گرفتار سب افراد کو رہا اور مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عالمی معاشی ماہر اکانومسٹ نے رپورٹ میں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی ہیں۔ پی پی موڈ بورڈ کے تعارف پر پی پی حکومت نے پروگرام بنایا تو اسے ایشیاء میں چھٹا نمبر دیا گیا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں ملک میں سندھ دوسرے اور پاکستان نو نمبر پر فہرست کا حصہ ہے۔ مارچ میں سندھ صوبے کے لیئے تین بڑی خبریں ملیں۔ تیسری خبر کامیاب پی ایس ایل کا انعقاد اور عالمی کھلاڑیوں کی آمد ہے۔ تھر کول ملک کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ ممبر قومی اسمبلی فنڈ کو عمران خان سیاسی خریداری رشوت کہتے تھے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کیا ریاست مدینہ میں اراکین قومی اسمبلی کو سیاسی رشوت دیں گے؟

 

مشیر اطلاعات سندھ پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ یوٹرن لیکر چوبیس ارب کی پی ایس ڈی پی کے طور پندرہ کروڑ سیاسی رشوت دینے کا اعلان کر رہے ہیں، جتنین کلابازی خان صاحب نے چھ ماہ میں لی ہیں، اس پر قوم ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ سیاسی لیڈر ان پر جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف عدالت کو کاروائی کرنا چاہیئے۔ عمران خان خود اپنے خلاف اخلاقی الزام کے جواب دیں۔ 124 روز دارلحکومت میں دھرنے دینے والوں کو خود فیصلہ کرنا چاہیئے۔ کیا جب خود دھرنا دیا تھا غلط تھا؟

 

مرتضی وہاب نے کہا کہ صدر پاکستان لائق صدر احترام مگر جب بل جلانے والے آج خود کیا کر رہے ہیں۔ خدارا یوٹرن نہ لیں جو وعدے کیئے شرمندہ نہ ہوں، کسی فرد کی حیثیت نہیں قانون سازی ادرے اور اسمبلی کا حق ہے۔ پولیس رفارم پر کام چل رہا ہے۔ فرمائش نہیں قانونی رفارم لائی جائیں گئیں۔ وزیراعلی کو کوئی نیب کو نوٹس نہیں ملا ہے جس طرح کا سلوک سی ایم کے خلاف کیا جا رہا ہے یہ درست عمل نہیں۔ کیا وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ ہے۔ کے پی میں کیا ان کو بھی بلوچستان یا سندھ منتقل کیا جائے گا؟ تحریک انصاف کے لوگ حقیقت سے دور ہیں۔

 

مشیر اطلاعات سندھ پیپلز پارٹی مرتضی وہاب نے کہا کہ شرجیل میمن مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ الزام ہے ثابت نہیں ہوا۔ وفاقی کابینہ میں ایسے لوگ بھی بیٹھے ہیں، اپوزیشن پہلے ان کا جواب دیں۔ فواد چوہدری سیاسی پناہ گیر ہے ان کی بات کو سیریز نہ لیا ہے نہ لیں گے۔ شیخ رشید اپنی وزارت سنبھالیں عوام کو سرکلر ریل کے متعلق بتائیں کوئی اچھی خبر دیں تو بھتر ہے۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں