الطاف حسین کو 2018 میں تمام کاموں سے روکا لیکن وہ نہ رکے: مصطفٰی کمال

کراچی (پبلک نیوز) پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفٰی کمال نے کہا ہے کہ ان کے قریبی دوست بھی ان کے ساتھ موجود نہیں ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار فروغ نسیم بھی قانونی مدد کے لیے لندن نہیں پہنچے۔ فروغ نسیم اب وفاقی وزیر قانون ہیں۔ اب عشرت العباد بھی موجود نہیں جو جوڑ توڑ کروائیں۔

 

پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفٰی کمال نے کہا ہے کہ الطاف حسین کی پہلے اور ابھی کی گرفتاری میں بہت فرق ہے۔ ان کے قریبی دوست بھی ان کے ساتھ موجود نہیں ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار فروغ نسیم بھی قانونی مدد کے لیے لندن نہیں پہنچے۔ فروغ نسیم اب وفاقی وزیر قانون ہیں۔ اب عشرت العباد بھی موجود نہیں جو جوڑ توڑ کروائیں۔ ہمارے کارکنان اور ہم پر حملے کیے گئے۔ میرے 7 کارکنان کو شہید کیا۔ مارنے اور مرنے والے دونوں مہاجر اردو اسپکنگ ہیں۔

 

مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ تمام افراد پکڑے جاچکے ہیں۔ ہماری تمام باتوں کو اب اللہ پاک صحیح کرتا جارہا ہے۔ مجھے آج نہ خوشی ہے اور نہ ہی غم ہے۔ الطاف حسین کے دوہزار آٹھ میں پاوں پکڑے۔ الطاف حسین کو ان تمام کاموں سے روکنے کی بہت کوشیش کی لیکن وہ نہ رکے۔ مہاجروں کو مارنا بند کیا جائے۔ الطاف حسین کی سزا پورے شہر کو مل رہی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ خدا کے واسطے اب مہاجروں کے ساتھ الطاف حسین کو سامنے رکھ کر ناروسلوک بند کیا جائے۔ ہم بھی الطاف حسین کے قابل بھروسہ افراد تھے لیکن ان کو چھوڑ دیا۔ آج کراچی حیدرآباد کچرا کنڈی بنی ہوئی ہے۔ آج بھی وہ ہی پرانے مطالبے اور نعرے ہیں۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں