نیب نے آصف زرداری کو گرفتار کر لیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق نیب نے آصف زرداری کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری اسلام آباد میں واقع زرداری ہاؤس میں لائی گئی۔ نیب ٹیم جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ زرداری ہاؤس پہنچی جہاں سابق صدر کے وکلاء نے ان سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے گرفتاری کے لیے جاری کردہ احکامات طلب کیے۔

 

سابق صدر کو نیب راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہاں پر ان کے میڈیکل ٹیسٹس ہوں گے۔ میڈیکل کے لیے پمز اور پولی کلینک کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ کل ان کو عدالت پیش کیا جائے گا۔ نیب کی جانب سے شریک چیئرمین پیپلز پارٹی کے ریمانڈ کے لیے استدعا کی جائے گی۔

 

آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہو سکے جس بنا پر نیب کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کو ابھی گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

 

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بنک اکاؤنٹس کے میگا منی لانڈرنگ ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی مستقل ضمانت مسترد کر دی۔ عدالت نے میگا منی لانڈرنگ ریفرنس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کو گرفتار کرنے کی اجازت دی۔

 

جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن کیانی نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ نیب کی جانب سے کی گئی آصف زرداری اور فریال تالپور کو گرفتار کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے گرفتاری کی اجازت دی گئی۔

 

یہ بھی یاد رہے کہ آصف زرداری 28 مارچ سے آج تک دو ماہ بارہ دن کے لیے عبوری ضمانت پر رہے۔ آصف زرداری کی عبوری ضمانت میں پانچ مرتبہ توسیع کی گئی۔

 

آصف زرداری کی گرفتاری پر رد عمل

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق صدر کی گرفتاری پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ زرادری صاحب باقاعدگی سے نیب میں پیش ہوتے رہے۔ نیب کے سوالات کا جواب دیتے رہے۔ پتہ نہیں نیب کو گرفتاری کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

 

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا اپنے ٹویٹ پیغام میں رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر اور احتساب غیر جانبدارنہ ہوتا تو  چور دروازے سے آیا جعلی اعظم اپنا اور اپنی بہن کا حساب دینے کے لیئے آج کٹہرے میں ہوتا۔ ‏اپوزیشن کے لیڈرز کو چن چن کر گرفتار کرنے سے جعلی اعظم اس جواب سے نہیں بچ سکتا جو اس کو ہر حال میں دینا پڑے گا۔

 

انھوں نے مزید کہا کہ جعلی اعظم کہتا تھا کہ پاکستان میں غریب کے لیے ایک قانون ہے اور امیر کے لیے دوسرا جبکہ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ پورے پاکستان، امیر ہو یا غریب، کے لیے الگ قانون ہے اور جعلی اعظم، اس کے خاندان اور اس کا خرچ اٹھانے والے امیر دوستوں کے لیے الگ قانون۔  ان کے لیے کوئی قانون ہے؟

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں