احتساب عدالت: چودھری برادران کیخلاف نیب انکوائری بند کرنے کا حکم

لاہور (شاکر محمود اعوان) احتساب عدالت نے چودھری برادران کے خلاف نیب انکوائری بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے نیب کی درخواست منظور کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے چودھری برادران سمیت دیگر کے خلاف انکوائری بند کرنے کی نیب کی سفارش منظور کر لی۔

نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ چیئرمین نیب چودھری برادران کے خلاف انکوائری بند کرنے کی منظوری دے چکے ہیں۔ چودھری برادران پر ایل ڈی اے سٹی میں 28 پلاٹس کے غیر قانونی خریداری کی تحقیقات چل رہی تھیں۔

چودھری شجاعت حسین سے 28 پلاٹس سے متعلق تحقیقات کی گئیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ پلاٹس چودھری برادران کے ملازم نے خریدے، چودھری برادران کا ان پلاٹس سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

ڈپٹی چیئرمین میجر جنرل عثمان نے جون 2000 میں چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الہٰی، محمد اقبال اور محمد رضون کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی۔ کئی سال انکوائری التوا ہونے کے بعد 2017 میں دوبارا انکوائری کا آغاز کیا گیا۔

عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چودھری پرویز الہٰی اور چودھری شجاعت حسین کے خلاف کوئی بھی دستاویزی یا زبانی شواہد نہیں ملے تاہم ملزمان نے 28 پلاٹس بنا کر فروخت کر دیئے ہیں جن پر چودھری برادارن کے گھر کا پتہ درج کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ چودھری برادران کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری تاحال جاری ہے۔ نیب نے چودھری برادران کے بنک اکاؤنٹس پراپرٹیز کی تفصلات طلب کر رکھی ہیں۔ نیب لاہور میں چودھری پرویزالہٰی کے صحابزادہ چودھری مونس الہٰی کیخلاف بھی انکوائری چل رہی ہے۔

چودھری مونس الہٰی کے خلاف آف شور کمپنیز اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیات کی جا رہی ہیں۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں