نیب نے نامعلوم افراد کا کھوج جدید ٹیکنالوجی سے لگانے کا فیصلہ کر لیا

لاہور(پبلک نیوز) منی لانڈرنگ کیس میں انکوائری کیلئے احتسابیورو (نیب لاہور) کا اہم اقدام، نامعلوم افراد کے نام پر کی گئی بنک ٹرانزیکشنز کا کھوج سوئیفٹ میسجز کو ٹریس کر کے لگایا جائے گا۔

 

نیب ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ انکوائری میں 30 نامعلوم افراد کا کھوج جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لگایا جائے گا، نیب کے آئی ٹی، بنکنگ اور فورینزک ماہرین مل کر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نامعلوم افراد کا کھوج لگائیں گے۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے بنکس اکاؤنٹس میں نامعلوم افراد کی بنک ٹرانزیکشنز سوئیفٹ طریقہ کار کے ذریعے کی گئیں۔ نامعلوم افراد کے نام پر کی گئی بنک ٹرانزیکشنز کا کھوج سوئیفٹ میسجز کو ٹریس کرکے لگایا جائے گا۔ سوسائٹی آف ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن کے میسجز سے متعلق تفصیلات صرف متعلقہ بنکس ہی بتا سکتے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے سلمان اور حمزہ کے بنک اکاؤنٹس میں سوئیفٹ طریقہ کار استعمال کرنے والے افراد کی تفصیلات کیلئے متعلقہ بنکس سے رجوع کیا جائے گا۔ 212 ممالک کے 10000 مالیاتی اداروں میں سوئیفٹ طریقہ کار محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے۔ سوئیفٹ طریقہ کار میں رقوم کی ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف بنکس کے ذریعے ترسیل ہوتی ہے۔ سلمان اور حمزہ شہباز کے بنک اکاؤنٹس میں 14 لاکھ 29 ہزار 946 امریکی ڈالرز جمع کروانے والے 30 نامعلوم افراد کا ڈیٹا نادرا کے پاس بھی موجود د نہیں۔ نادرا کی جانب سے ڈیٹا نہ ملنے پر سوئیفٹ میسجز کے ذریعے 30 افراد کی شناخت کا فیصلہ کیا گیا۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں