نیب نے سابق وزیر منظور وٹو کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا

لاہور(پبلک نیوز)غیرقانونی بھرتیوں اور اختیارات سے تجاوزات کا معاملہ، سابق وفاقی وزیر میاں منظور وٹو نیب لاہور میں پیش ہو گئے، نیب نے سوالنامہ دیتے ہوئے 10 روز میں جواب طلب کر لیا، منظور وٹو نے گفتگو میں کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز میں بھرتیاں میرٹ پر کی گئیں، نیب کو انتقامی ادارہ کہنا غلط ہے۔

 

سابق وفاقی وزیر صنعت وپیدوار میاں منظور وٹو نیب لاہور میں پیش ہو گئے، میاں منظور سے ڈیرھ گھنٹے تک نیب کمبائینڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے400 غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق پوچھ گچھ کی۔ تفتیشی افسر نے سوال کیا کہ بطور وزیر آپ کے علم میں لائے بغیر آپ کی منسٹری میں اتنی بڑی تعداد میں بھرتیاں کیسے ہوئیں؟ جس پر منظور ووٹو نے کہا کہ وہ پانچ سال فیڈرل منسٹر رہے لیکن ملک سے باہر کوئی جائیداد یا بینک اکاؤنٹس نہیں بنائے۔

 

نیب میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں منظور وٹو نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ نیب کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نیب نے سوالنامہ دیا ہے کہ جس کا جائزہ لینے کے بعد دس روز میں جواب جمع کرا دیا جائے گا، یوٹیلٹی کارپویشن میں تمام بھرتیاں قانون اور میرٹ کے مطابق ہوئیں ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر کے جواب جمع کرانے کے بعد دوبارہ طلبی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں