نیب نے شریف فیملی کیخلاف انوسٹی گیشن کیلئے چیئرمین نیب سے منظوری مانگ لی

لاہور(شاکر محمود اعوان) نیب لاہور نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت فیملی اراکین کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری کو انوسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کے لیے چیئرمین نیب سے منظوری مانگ لی ہے۔ 
 
 
شریف فیملی پر مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیجانے والی تحقیقات کے مطابق شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے 3 ارب کے اثاثے آمدن سے زائد ہیں۔ شہباز شریف کے برطانیہ میں موجود 4 فلیٹیس کی مالیت 23 کروڑ 50 لاکھ 84 ہزار 534 روپے ہے۔ شہباز شریف 8 سال کے دوران 25کروڑ 77لاکھ 10 ہزار بچوں اور اہلیہ کو بطور تحفے میں دیئے۔ شہباز،حمزہ اور سلمان نے 6 بنک اکاؤنٹس کے زریعے 1ارب 50 کروڑ سے زائد کی ٹرانزیکشن کیں۔
 
 
پبلک نیوز کو موصول فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے20 لاکھ سے زائد کی 500 ٹرانزیکشن نیب کو مہیا کی ہیں۔ 500 ٹرانزیکشن میں شہباز شریف کی 5 سلمان شہباز 5 اور حمزہ کیجانب سے 4 مشکوک ٹرانزیکشن شامل ہیں۔ شہباز شریف اور سلمان شہباز نے یکم جنوری 2017 کو مشکوک ٹرانزیکشن برطانوی پاونڈز میں کیں۔ رمضان شوگر مل، شریف فیڈ ملز، شریف ڈیری فارم، شریف ملک پروڈکشن، شریف پولٹری فارم، کین شوگر رفائن، منیوفکچر آف شوگر اور پولٹری فیڈ بھی سی ٹی آر رپورٹ میں شامل ہیں۔ شہباز شریف سمیت ان کی فیملی اراکین کیخلاف نیب نے 23 جنوری 2018 کو تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں