نیب نے خواجہ سعدرفیق کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا

لاہور(پبلک نیوز) سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی مشکلات میں آئے روز اضافہ ہونے لگا۔ پراگون، آشیانہ اقبال، ریلوے میں اختیارات سے تجاوز اور آمدن سے زائد اثاثوں کے بعد ایک اور انکوائری کا آغاز ہو گیا۔ نیب نے خواجہ سعد رفیق کیخلاف فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے بعد منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

 

خواجہ سعد رفیق کے گرد نیب کا شکنجہ تنگ ہونے لگا۔ نیب لاہور نے ہوم لینڈ سوسائٹی کے مالک ندیم احمد کیخلاف فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پبلک نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ہوم لینڈ سوسائٹی کے ندیم احمد نے 2016 مین پراگون سٹی کے ساتھ اربوں روپے کا کاروبار کیا، جس کی منی ٹریل ندیم احمد کے پاس موجود نہیں ہے۔ فنانشل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی رقم کی تفصیلات نیب کو جمع کرواتے ہوئے کہا کہ 2016ء میں ملزم کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن کی گئی، جس کا کنکشن خواجہ سعد رفیق سے ملتا ہے۔

 

نیب ذرائع کے مطابق ندیم احمد نے 16 بنک اکاونٹس کے ذریعے 2 ارب 36 کروڑ کی رقم منتقل کی۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ میں متعدد ٹرانزیکشن کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ نیب نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے پراگون سٹی کی زیلی کمپنی پراگون منی ایکسچینج کے ریکارڈ کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب نے خواجہ سعد رفیق کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں، تاہم ان کی جانب سے گراونڈز آف اریسٹ سمیت وارنٹ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنچ کر رکھا ہے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں