کرپشن مقدمات: نیب سیاستدانوں کی مددگار خلائی مخلوق کا کھوج لگانے میں ناکام

لاہور(ادریس شیخ) سابق وزیراعظم نوازشریف نواز شریف نے اپنے خلاف کاروائی کا الزام خلائی مخلوق پر لگایا، اس کی وضاحت تو وہ نہ کرسکے، مگر پبلک نیوز نے ایک نئی خلائی مخلوق کا کھوج لگا لیا ہے جو اربوں روپے بنکوں میں جمع تو کرواتی ہے مگر کسی کو نظر ہی نہیں آتی۔

 

سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خلاف کارروائی کا الزام خلائی مخلوق پر عائد کیا، شہبازشریف نے کسی بھی خلائی مخلوق کی موجودگی کے تاثرکی نفی کی، احسن اقبال کیے مطابق بیس کروڑ عوام بمقابلہ خلائی مخلوق، مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق کا لفظ ہی پہلی بار سنا ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق نوازشریف کو جب بھی اقتدارملا خلائی مخلوق کی وجہ سے ملا، سیاستدان خلائی مخلوق کا لفظ تو استعمال کرتے ہیں مگر اس کی کھل کر وضاحت کوئی بھی نہیں کرتا، صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک اور قسم کی خلائی مخلوق پائی جاتی ہے، جو نجی بنکس کی سرکلرروڈ، بادامی باغ اور گلبرگ برانچز میں جاتی ہے، رقوم کی رسیدیں پر کرتی ہے اور ذہین اتنی کہ کچھ مخصوص اکاؤنٹس میں کروڑوں ڈآلرز جمع کروا دیتی ہے۔

 

حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے بنک اکاؤنٹس میں ایسی بنک ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا ہے، جن میں رقوم جمع کروانے والوں کا کچھ پتہ نہیں ہے، اس خلائی مخلوق یا نامعلوم افراد کا ریکارڈ نہ تو بنکس کے پاس موجود ہے اور نہ ہی نادران ان کی تصدیق کرسکا، اس کی جانب سے سب سے پہلی بنک ٹرانزیکشن حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں یکم جون 2005ء کو 99965 امریکی ڈالرز کی گئی، سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں پہلی بنک ٹرانزیکشن دوجون 2005 کو کی گئی، جب شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سے ان رقوم کے ذرائع کے بارے میں پوچھا گیا تو ایک ہی جواب دیا گیا۔

 

جواب میں کہا گیا کہ اس خلائی مخلوق نے 13 سے زائد بار سلمان شہباز کے اکاؤنٹس میں اور 6 سے زائد بار حمزہ شہباز کے بنک اکاؤنٹس میں غیر ملکی رقوم جمع کروائیں، مجموعی طور پر 19لکھ 30ہزارامریکی ڈالرز سے زائد رقم جمع کروائی گئی، شاید 9 کا ہندسہ اس خلائی مخلوق کا لکی نمبر ہے جو 33 سے زائد بار استعمال کیا، اس خلائی مخلوق کی جانب سے سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے بنک اکاؤنٹس کبھی دو بار نو کے ہندسے سے جگمگائے تو کبھی تین اور چار بار چمکے۔ نیب نے اس خلائی مخلوق کے خلاف اپنی تفتیش شروع کی، مگر کوئی سرا ہاتھ نہ آنے پر تفتیشی افسر بھی پریشان ہے کہ کہاں سے اس خلائی مخلوق یا نامعلوم افراد کو ڈھونڈے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں