منی لانڈرنگ انکوائری میں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نامزد

لاہور(ادریس شیخ) سلمان شہباز، شہباز شریف کے خاندان کے پراسرار کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں، کاروباری معاملات دیکھنے کی ذمہ داری سلمان شہباز کی ہے، جو اس وقت بیرون ہیں۔

 

ذرائع کے مابق کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف سیاسی معاملات اور میگا پراجیکٹس دیکھتے، حمزہ شہباز سرکاری منصوبوں کے ثمرات کا رخ اپنے کاروباری یونٹس کی طرف موڑتے اور منظور نظر افراد کو بھرتی کرتے اور سلمان شہباز زیادہ سے زیادہ دولت کشید کرنے کے اقدامات کرتے، بینامی اکاؤنٹس میں بھی سب سے زیادہ رقم سلمان شہباز کے اکاؤنٹس میں ہی جمع کروائی گئی۔

 

نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ انکوائری میں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو نامزد کیا گیا ہے، نیب نے جعلی کھاتہ داروں کے ذریعے اربوں روپے وصول کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سلمان شہباز کو سیاسی شخصیت سے زیادہ کاروباری شخصیت سمجھا جاتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ سلمان شہباز کے نیب کی کھوج لگائی گئی 199 بنک ٹرانزیکشنز میں سے 126 سلمان شہباز کے نام پر ہیں۔ 

 

کاروباری سوجھ بوجھ کے مالک سمجھے جانے والے کماؤ پوت سلمان شہباز نے شاید ان دیکھے خطرات کو بھانپ لیا اور اپنے بنک اکاؤنٹس سے بھاری رقوم کیش کی صورت میں نکلوانا شروع کر دیں۔ سلمان شہباز نے 3مارچ 2014 سے کیش کی صورت میں رقوم نکلوانا شروع کیں۔7لاکھ 50ہزار روپے شاید سلمان شہباز کا لکی نمبر ہے، انھوں نے 7لاکھ 50 ہزار روپے کیش دس بار نکلوایا۔

 

نیب تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں نجی بنکس کی برانچز کے ذریعے 199 بنک ٹرانزیکشنز کی گئیں،19 کھاتہ داروں کا ریکارڈ ہی غائب کر دیا گیا۔ 126 بنک ٹرانزیکشنز کے ذریعے خطیر رقوم سلمان شہباز کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ نیب نے رمضان شوگرملز، منی لانڈرنگ سمیت متعدد انکوائریز میں سلمان شہباز کو طلب کیا، مگر وہ پیش ہونے کی بجائے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں